Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
89 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
پہنچائے، میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ۔
(سُنَنِ ابوداو،دج۴ص۳۴۸حدیث ۴۸۶۰)
     مُحَقِّق عَلَی الِاْطلاق ، خاتِمُ المُحَدِّثین ، حضرتِ علامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی حدیثِ پاک کے اس حصّے ''مجھے کوئی صَحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے''کی وَضاحت کرتے ہوئے فر ما تے ہیں :''یعنی کسی کی کوتاہی ،فعلِ بد، عادتِ بد،اُس نے یہ کیا یا اُس نے یہ کہا ، فُلاں اس طرح کہہ رہا تھا ۔''
 (اشعۃ اللّمعات ج۴ص۸۳)
حدیث شریف کے اس حصّے''میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں '' کاخُلاصہ کرتے ہوئے مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں :یعنی کسی کی عداوت، کسی سے نفرت دل میں نہ ہوا کرے۔ یہ بھی ہم لوگوں کے لیے بیانِ قانون ہے کہ اپنے سینے(مسلمانوں کے کینے سے) صاف رکھو تاکہ ان میں مدینے کے انوار دیکھو ، ورنہحُضُور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سینہ رحمت، نورِ کرامت کا گنجینہ ہے وہاں کَدُورَت(یعنی بُغُض و کینے)کی پہنچ ہی نہیں۔
(مراٰ ۃ المناجیح ج ۶ص۴۷۲)
سُبحٰنَ اللہ!مذکورہ حدیثِ مبارک میں وارِد شدہ ارشادِ گرامی میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اپنے غلاموں سے مَحَبَّت کی اَتھاہ گہرائیوں کا پتا دیتا ہے!میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے بھائی جان شہنشاہِ سُخَن، اُستاذِ زَمن حضرتِ مولیٰنا حسن رضا خان علیہ رحمۃُ الحنّان نے کتنا پیارا شعر کہا ہے  ؎
تم کو تو غلاموں سے ہے کچھ ایسی مَحَبَّت

ہے ترکِ  ادب ورنہ کہیں ہم پہ فِدا ہو
Flag Counter