بھری ہیں بَہَرحال گفتگو میں اِحتیاط کا ذِہن دینے کیلئے اس مَدَنی بہار میں موجود چار غیبتوں کا ذکر کیاجا رہا ہے:(1) میری بہن انتہائی غصیلی ہے (2 تا3)اگر کسی سے ناراض ہو جائے تو خود سے بڑھ کر صلح کی صورت نہیں بناتی۔ یہ دونوں غیبتیں دو دو مرتبہ کی گئی ہیں(4)بہن اور بھابھی کی آپَس میں چَپقَلش اور ناراضی کا تذکرہ کرنا گھر کا راز فاش کرنا ہوا جو کہ ایک ناشائِستہ حرکت اور مِن جُملہ اَسبابِ غیبت ہے۔ اس مَدَنی بہار کو بیان کرنے والے اسلامی بھائی نے اپنی بہن کے غصیلی ہونے وغیرہ کا تذکرہ اگر اس نیَّت سے کیا ہے کہ اِس سے سنّتوں بھرے مَدَنی چینل کی تشہیر ہو اور لوگوں کو اِس کی اَھَمِّیَّت کا پتا چلے تو یہ ایک بَہُت اچّھی نیّت ہے ۔مگر ایسے موقع پر اشارے کِنائے میں بات کرنی اَنسَب (مناسِب تر)ہے یعنی نام لئے اور علامت ظاہر کئے بِغیر اس طرح رَمز(یعنی اشارے)میں بات کرے کہ مخاطَب (یعنی جس سے بات کی جا رہی ہے وہ)سمجھ ہی نہ سکے کہ کس کے بارے میں گفتگو کی جارہی ہے ، مَثَلاً یوں کہے:ایک اسلامی بھائی کے ساتھ یہ واقِعہ پیش آیا کہ اُن کی بہن غصیلی تھی۔۔۔۔اِلخ۔ مگر اِس دوران سنجیدہ انداز ضَروری ہے ورنہ مخصوص انداز میں مُسکرانے وغیرہ سے ہو سکتا ہے کہ سننے والے سمجھ جائیں کہ یہ تو خودسنانے والے کے اپنے ہی گھر کاقِصّہ ہے!