(اَلْاَحادِیثُ الْمُخْتارَۃ ج۶ ص۱۸۸ حدیث۲۱۹۹)
اور بِغیرشرعی مجبوری کے مسلمانوں کومُتَنَفِّر کرنا (یعنی مسلمانوں کو نفرت دلانا)مُمنوع ہے ۔ چُنانچِہ حُضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
بَشِّرُوْاوَلَا تُنَفِّرُوْا
یعنی مسلمانوں کو خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ۔
شریعت کا مقصد جوڑنا ،اِتّحاد پیدا کرنا ہے نہ کہ توڑنا۔ عقلِ سلیم کا تقاضابھی یہی ہے کہ لوگوں کو بیقراری میں ڈال کرنا راض نہ کیا جائے اور کراہت والزام والی جگہ کھڑے ہونے سے پرہیز کیا جائے، حدیثِ پاک میں ارشادِ نبوی ہے:اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد عقل کی بنیاد لوگوں سے دوستی اورمَحَبَّت رکھناہے ۔
(جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۴ ص۳۳۹ حدیث ۱۲۳۳۲)
فقیر (یعنی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)نے اس باب کی حدیثوں کو اپنے رسالے جَمالُ الْاِجْمال اور اس کی شرح کمالُ الْاِکْمال میں تفصیلاً بیان کردیا ہے۔ خُلاصہ یہ کہ عقل ونقل کے اعتبار سے اس طرح کاکام یا اِقدام اپنے اندر کئی قسم کی قَباحتیں (خرابیاں) رکھتا ہے کہ جن کا انکارنہیں کیا جاسکتا اور ایسے کاموں کا انجام مذموم ہوتاہے۔(اور) جب یہ کام یااقدام فتنہ وفساد اور مسلمانوں کے درمیان تَفریق اورپھوٹ پڑنے کی حد تک جاپہنچے تو جُرمِ عظیم بن جاتاہے چُنانچِہ ارشادِ ربانی ہے :
وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ
ترجَمہ کنزالایمان :اور ان کا فساد توقتل سے بھی سخت ہے۔
اور حدیث شریف میں ہے کہ فِتنہ سو رہا ہے اس کے جگانے والے پراللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت۔
(اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۷۰حدیث ۵۹۷۵ )
اگر آپ اچّھی طرح غور کریں تو یہ واضح ہو گا کہ اس قسم کے افعال اُنہی لوگوں سے سرزد ہوتے ہیں جو دین اور تقاضا ئے دین کو چَنداں (یعنی بِالکل )اَھَمِّیَّت نہیں دیتے ، بے خوف ہو کربِالکل آزاد انہ لاپرواہی والی زندگی گزارنا زندگی کا حاصِل(یعنی مقصدِ حیات)سمجھتے ہیں۔کچھ آگے چل کر اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:عیسائیوں(یعنی کرسچینوں)کے ساتھ مل کر کھانا پینا اور اس قسم کے دوسرے کام