کہ ایسی حرکتیں کرنا کس قدر بُرا ہے جو مسلمانوں میں غیبتوں ، تہمتوں اور بدگمانیوں اور آپَسی نفرتوں کا سبب بنیں چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمتِ بابَرَکت میں سُوال ہوا: عُلمائے شریعت اور مفتیانِ طریقت اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں کہ زید ایک مقام پرامامت ونَیابت کے فرائض انجا م دیتاہے لیکن جو لوگ سُوَر اورمُردار کا گوشت پکا کر عیسائیوں (یعنی کرسچینوں)کو کھلاتے ہیں زید اُن لوگوں کے گھروں سے کھانا کھاتاہے اور کہتاہے کہ مُردار اورسُوَر کا گوشت عیسائیوں(یعنی کرسچینوں)کے لئے پکانے میں کوئی حَرَج نہیں، پکانے کے بعد ہاتھ دھو ڈالے تو پاک ہوجاتے ہیں۔'' شہر کے اکثر لوگ زَید کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر ان لوگوں کے گھروں سے کھانا کھانے لگے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس عمل سے نفرت اور سخت اختِلاف کر رہے ہیں اورنِزاع(یعنی فساد)کی صورت بن گئی ہے۔ لہٰذا کتاب وسنَّت کی روشنی میں بیان فرمایا جائے کہ شخصِ مذکور(یعنی زید)کے بارے میں کیا شَرعی حکم ہے اور اس کی مُعاوَنت وامداد اور اس سے تعاون کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا فرماتی ہے؟