Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
84 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
کہ ایسی حرکتیں کرنا کس قدر بُرا ہے جو مسلمانوں میں غیبتوں ، تہمتوں اور بدگمانیوں اور آپَسی نفرتوں کا سبب بنیں چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کی خدمتِ بابَرَکت میں سُوال ہوا: عُلمائے شریعت اور مفتیانِ طریقت اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں کہ زید ایک مقام پرامامت ونَیابت کے فرائض انجا م دیتاہے لیکن جو لوگ سُوَر اورمُردار کا گوشت پکا کر عیسائیوں (یعنی کرسچینوں)کو کھلاتے ہیں زید اُن لوگوں کے گھروں سے کھانا کھاتاہے اور کہتاہے کہ مُردار اورسُوَر کا گوشت عیسائیوں(یعنی کرسچینوں)کے لئے پکانے میں کوئی حَرَج نہیں، پکانے کے بعد ہاتھ دھو ڈالے تو پاک ہوجاتے ہیں۔'' شہر کے اکثر لوگ زَید کے اس طرزِ عمل کو دیکھ کر ان لوگوں کے گھروں سے کھانا کھانے لگے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس عمل سے نفرت اور سخت اختِلاف کر رہے ہیں اورنِزاع(یعنی فساد)کی صورت بن گئی ہے۔ لہٰذا کتاب وسنَّت کی روشنی میں بیان فرمایا جائے کہ شخصِ مذکور(یعنی زید)کے بارے میں کیا شَرعی حکم ہے اور اس کی مُعاوَنت وامداد اور اس سے تعاون کرنے والوں کے بارے میں شریعت کیا فرماتی ہے؟
بَیِّنُوْا تُوْجَرُوا
(بیان فرماؤ تاکہ اجر وثواب پاؤ )
الجواب:
ایسے نِڈر ، بے خوف اور تقویٰ سے عاری لوگ جو کافِروں غیر مسلموں کے لئے (سُوَر ومُردارجیسی)خبیث ترین اور نجس(یعنی ناپاک)و حرام چیزیں پکانے کھلانے کا پیشہ اختیار کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے ہاں سے دین داروں اور تقویٰ د ار لوگوں کو کھانا ہرگز نہیں کھانا چاہے کیونکہ جہاں حرام چیزوں کا استِعمال کثرت سے ہو وہاں برتنوں کے ناپاک اشیاء سے آلودہ ہونے کااِحتِمال(یعنی شبہ)ہوتاہے۔ اور دیندار وتقوٰی دار لوگوں کا ایسے لوگوں کے ہاں جانا اور ان کے ہاں سے ایسے مَشکوک برتنوں میں کھانا کھانا عوام ُالنّاس کی نگاہوں میں باعثِ الزام و باعثِ تہمت ہوسکتاہے۔ حدیث شریف میں ہے:''جوکوئی اللہ تعالیٰ اورقِیامت پر ایمان رکھتاہے تو وہ مقاماتِ تُہمت سے بچے ۔ '' لہٰذا ایسی صورتِ حال میں الزام، طعن اورتُہمت سے بچنا ضَروری ہے بصورتِ دیگر یہ اِقدام اپنے دینی بھائیوں کو کبیرہ گناہوں غیبت، بہتان، کینہ اور
Flag Counter