| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
دوسرے كی آنكھ كا تنكا تونظر آتا ہے مگر۔۔۔۔
یاد رکھئے!امام یا عالم صاحب کا کسی مسلمان سے نذرانہ ، دعوت یا مٹھائی قَبول کرناجائز کام ہے گناہ وحرام نہیں بلکہ اچّھی اچّھی نیّتیں ہو ں تو کارِ ثواب ہے۔ مُعترِض کو اپنی آمَدَنی پر نظردوڑانی چاہے ، حرام ہو تو اُس سے بھی نیز غیبتوں ، تہمتوں اور بدگمانیوں سے توبہ اور اس کے تقاضے پورے کرنے چاہیں ۔ غو ر تو کیجئے! جب آپ کسی کی طرف ایک انگلی اُٹھاتے ہیں تو ہاتھ کی تین انگلیوں کا رُخ خود آپ کی طرف ہوجاتا ہے گویا یہ خاموش تنبیہ (نوٹس)ہے کہ اُس کو بعد میں چھیڑنا پہلے اپنے آپ کوسُدھار!حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: دوسرے کی آنکھ کا تنکا تو تمہیں نظر آجاتا ہے(یعنی ذرا ذراسی بات میں اس کا عیب بیان کرتا پھرتاہے) مگر اپنی آنکھ کا شَہتیر(یعنی بڑی لکڑی کا مطلب یہ کہ اپنا بَہُت بڑاعیب بھی)نظر نہیں آتا!
(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۹۵ رقم۵۷)
کب گناہوں سے کنارا میں کروں گا یا رب نیک کب اے مِرے اللہ بنوں گا یا رب
کب گناہوں کے مرض سے میں شِفا پاؤں گا کب میں بیمار مدینے کابنوں گا یا ربصَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد تُوبُوا اِلَی اللہ ! اَسْتَغْفِرُاللہ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایسے كام نہ كرو كہ لوگ غیبت كریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عوام و خواص ہر ایک کوچاہے کہ مُحتاط زندگی گزاریں ایسے مُباح اعمال و اَفْعال سے بھی اپنے آپ کو بچائیں جو کہ فتحِ بابِ غیبت یعنی غیبت کا د روازہ کُھلنے کا سبب بنیں اس ضِمن میں فتاوٰی رضویہ جلد21 صَفْحَہ 612 تا 616 پر ایک فارسی سُوال جواب (جس کا ترجمہ بھی وَہیں موجود ہے)کا اکثر حصّہ پیش کیا جاتا ہے ، اِسے پڑھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے