میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو اپنے امیر،نگران، افسر،سیٹھ ، لیڈر یا کسی مالدار کو اچّھا لگانے ،ان کی ہمدردیاں پانے، اپنے آپ کو ''وفادار''جتانے مگر حقیقت میں اپنی حماقت پر مُہر لگانے اور خود کو دوزخ کاحقدار بنانے کیلئے اُس سیٹھ وغیرہ کے سامنے اُس کے مخالف کی پَولیں کھولتے اور مختلف زاویوں سے اُن کی بُرائیاں کرتے ہیں ۔ آہ! نہ جہنَّم کی غذا کھائی جا سکے گی نہ دوزخ کا لباس پہنا جا سکے گا ۔ جہنَّم کی غذا کانقشہ کھینچتے ہوئے صدرُ الشَّریعہ ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 167 تا 168 پر فرماتے ہیں :(جہنَّمیوں کو)خار دار تُھوہڑ(ایک کانٹے دار زہریلا پودا)کھانے کو دیا جائے گا، وہ ایسا ہو گا کہ اگر اس کا ایک قطرہ دنیا میں آئے تو اس کی سوزِش و بدبُو تمام اہلِ دنیا کی معیشت برباد کردے اور وہ گلے میں جا کر پھندا ڈالے گا، اس کے اُتارنے کے لیے(دوزخی لوگ)پانی مانگیں گے، اُن کو وہ کھولتا پانی دیا جائے گا کہ منہ کے قریب آتے ہی منہ کی ساری کھال گَل کر اُس میں گِر پڑے گی، اور پیٹ میں جاتے ہی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور وہ شوربے کی طرح بہ کر قدموں کی طرف نکلیں گی ، پیاس اس بلا کی ہوگی کہ اُس پانی پر ایسے گریں گے جیسے تَونس (یعنی سخت پیاس) کے مارے ہوئے اونٹ۔
نارِ جہنَّم سے تُو اماں دے ، خُلدِ بریں دے باغِ جِناں دے
از پئے حضرتِ ابو حنیفہ ، یااللہ مِری جھولی بھر دے