حضرتِ سیِّدُنا عَلّامہ ابنِ جَوزِی علیہ ر حمۃ اللہِ القوی نَقْل کرتے ہیں:عورت کے مَحاسِن (یعنی حُسن و جمال )کو دیکھنا ابلیس کے زَہر میں بُجھے ہوئے تیروں میں سے ایک تیر ہے، جس نے نامَحرم سے آنکھ کی حفاظت نہ کی اُس کی آنکھ میں بروزِ قِیامت آگ کی سَلائی پھیری جائیگی۔
جہنَّم سے آزاد ہونے والی آنكھیں
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اداریمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 300 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''آنسوؤں کادریا''صَفْحَہ 235پر ہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
کی طر ف وحی فرمائی:''اے موسیٰ!میں نے تین قسم کی آنکھوں کو جہنَّم پر حرام فرمادیاہے ، ایک وہ آنکھ جو راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں پہرہ دیتی ہے ، دوسری وہ آنکھ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں سے رُک جاتی ہے اور تیسری وہ آنکھ جو میرے خوف سے روتی ہے، اورآنسو کے علاوہ ہر شے کی ایک جزاہے اورآنسو کی جزا رحمت، مغفرت اور جنَّت میں داخلے کے علاوہ کچھ نہیں۔''
تم جنّت میں میرے ساتھ ہوگے
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو کر عرض کی:یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں صرف ایک مہینے کے روزے رکھتا ہوں اس پر اِضافہ نہیں کرتا ،اور صرف پانچ نَمازیں پڑھتا ہوں اس سے زیادہ نہیں پڑھتا اور میرے مال میں زکوٰۃ فرض نہیں اور نہ ہی مجھ پر حج فرض ہے اور نہ ہی نَفل حج کرتا ہوں، میں مرنے کے بعد کہاں جاؤں گا؟رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ