Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
72 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
قبْروں پر پھول ڈالنا مُستحب ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!گزَشتہ دونوں احادیثِ مبارَکہ میں پیشاب سے نہ بچنے والے اور غیبت کرنے والے کے عذابِ قبر میں مبتَلا ہونے کا تذکرہ ہے۔ ہر مسلمان کو احتیاط کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے۔ ان روایات میں قَبْر پر تر شاخ رکھنے کا ذکر ہے۔اِس ضِمن میں مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اپنی مشہور کتاب ''جاء َالحق''حصّہ اوّل صَفْحَہ 240 تا241 پر فرماتے ہیں :کہا گیا ہے کہ اس لئے عذاب کم ہوگا کہ جب تک(یہ شاخیں)تر رہیں گی تسبیح پڑھیں گی ۔ اس حدیث کی شَرح میں علامہ نَوَوِی(علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی)فرماتے ہیں:اس حدیث سے عُلَماء نےقَبْر کے پاس قراٰن پڑھنے کو مُستَحَب فرمایا۔ کیونکہ تلاوتِ قراٰن شاخ کی تسبیح سے زیادہ اس کی حقدار ہے کہ اس سے عذاب کم ہو ۔ طحطاوی علیٰ مَراقِی الفَلاح صَفْحَہ 364 میں ہے : ہمارے بعض مُتَأَخِّرین(مُ۔تَ۔اَخْ۔خِرِین)اصحاب نے اِس حدیث کی وجہ سے فتویٰ دیا کہ''خوشبو اور پھول چڑھانے کی(مسلمانوں میں)جو عادت ہے وہ سنَّت ہے۔ ''مفتی صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مزید فرماتے ہیں:اِس حدیث اور محدِّثِین وفُقَہا ء کی عبارت سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ ہر سبزچیز(یعنی سبزے )کا رکھنا ہر مسلمان کی قبر پر جائز ہے۔حُضور نبیِّ کریم
علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم
نے ان قبروں پر(تَر)شاخیں رکھیں جن کو عذاب ہو رہا تھا اور دوسرے یہ کہ عذاب قبر کی کمی سبزے کی تسبیح کی برکت سے ہے۔۔۔۔لہٰذا اگر ہم بھی آج (قبروں پر)پھول وغیرہ رکھیں تو بھی اِنْ شآء اللہ میِّت کو فائدہ ہو گا بلکہ عام مسلمانوں کی قبروں کو کچّا رکھنے میں یہ ہی مصلَحت ہے کہ بارش میں اس پر سبز گھاس جمے اور اس کی تسبیح سے میِّت کے عذاب میں کمی ہو۔
            ہے کون کہ جو گِریَہ کرے فاتِحہ کو آئے

            برسائے کون قبر پہ بیکس کی بَھَرن پھول
Flag Counter