میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!غیبتوں اور پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا قَبْر کے عذاب کے اسباب میں سے ہے۔آہ!ہمارا وہ نازک بدن جو کہ معمولی کانٹے کی چُبَھن، دوپَہَر کی دھوپ کی تَپَش و جَلن اوربُخار کی معمولی سی اَگَن برداشت نہیں کر سکتا وہ قَبْر کا ہولناک عذاب کیسے سہہ سکے گا۔یااللہُ عَزَّوَجَلَّ ! ہم پیشاب کی آلودگیوں کے جُرموں،غیبتوں،چغلیوں اورچھوٹے بڑے تمام گناہوں سے توبہ کرتے ہیں، پیارے پیارے مالک ! عَزَّوَجَلَّہم سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راضی ہوجااور ہماری بے حساب مغفِرت فرما۔
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔
بیان کردہ روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوعلمِ غیب ہے جبھی تو بعطائے خدائے وہّاب عَزَّوَجَلَّ قبر کا عذاب مُلاحَظہ فرما لیا جیسا کہ بیان کردہ حدیثِ پاک سے ظاہر ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنّت ،مجدِّدِ دین وملّت مولیٰناشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن حدائقِ بخشش شریف میں فرماتے ہیں ؎
سرِ عرش پر ہے تری گزر دلِ فرش پر ہے تری نظر
مَلکُوت و مُلک میں کوئی شے نہیں وہ تجھ پہ عِیاں نہیں
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے غیب کی خبریں دینے والے مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک قَبْر کے پاس تشریف لائے جس میں میِّت کوعذاب ہو رہا تھا تو ارشاد فرمایا:''یہ لوگوں کا گوشت کھاتا(یعنی غیبت کرتا)تھا۔'' پھر ایک تر ٹہنی منگوائی اور اُسے قَبْر پر رکھ کر ارشاد فرمایا:اُمّید ہے کہ جب تک یہ تَر رہے گی اس کے عذاب میں کمی رہے گی۔
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطج۲ص۳۵حدیث۲۴۱۳)