Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
66 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود پاک کی کثرت کروبے شک یہ تمہارے لئے طہارت ہے ۔
پکار رہا ہے ۔ پھر اچانک اسی قَبْرسے ایک اور شخص نکلا ،اُس نے مجھ سے کہا:''اے عبداللہ!اس نافرمان کو ہر گز پانی نہ پلانا ، یہ کافر ہے۔'' دوسرا شخص پہلے کو گھسیٹ کر واپس قَبْر میں لے گیا۔ میں نے وہ رات ایک بڑھیا کے گھر گزاری، اس کے گھر کے قریب ایک قَبْر تھی ،میں نےقَبْر سے یہ آواز سنی:
یعنی''پیشاب!پیشاب کیا ہے ؟ مشکیزہ!مشکیزہ کیا ہے ؟''اِس آوا زکیمُتَعَلِّق بڑھیا سے پوچھا تو اُس نے کہا :یہ میرے شوہر کی قَبْر ہے، اسے دو خطا ؤ ں کی سز امل رہی ہے۔ پیشاب کرتے وقت یہ پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا ، میں اس سے کہتی کہ تجھ پر افسوس!جب اُونٹ پیشاب کرتا ہے تو وہ بھی اپنے پاؤ ں کُشادہ کر کے چھینٹوں سے بچتا ہے ،لیکن تُواس مُعامَلے میں بِالکل بھی اِحتیاط نہیں کرتا ، میرا شوہر میری ان باتوں پر کوئی تو جُّہ نہ دیتا، پھر یہ مرگیا تو مرنے کے بعد سے آج تک اس کی قَبْر سے روزانہ اسی طرح کی آوازیں آتی ہیں۔ میں نے پوچھا:
شَنٌ وَّمَا شَنْ ؟
یعنی''مشکیزہ!مشکیزہ کیا ہے ؟''کی آواز آنے کا کیا مقصد ہے؟ بڑھیانے کہا:ایک مرتبہ اِس کے پاس ایک پیاسا شخص آیا، اس نے پانی مانگا تو(اِس نے اُس کو پریشان کرنے کیلئے خالی مشکیزے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)کہا :جاؤ!اِس مشکیزے سے پانی پی لو ، وہ پیاسا بے تا با نہ مشکیزے کی طرف لپکا، جب اُٹھایا تو اُسے خالی پایا، پیاس کی شدّت سے وہ بے ہوش ہو کر گِر گیا اور اس کی موت واقِع ہوگئی ۔ پھرجب سے میرا شوہر مرا ہے آج تک روزانہ اُس کی قَبْر سے آواز آتی ہے :
شَنٌ وَّمَا شَنْ
یعنی''مشکیزہ!مشکیزہ کیا ہے ؟'' حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں:میں نے رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضِر ہو کر سارا واقِعہ عرض کیا تو سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تنہا سفر کر نے سے منع فرمادیا۔
                             (عُیونُ الْحِکایات(عربی) حصّہ ۲ ص۳۰۷)
Flag Counter