Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
65 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
باتیں نہ کرتے تو تم بھی وہ سنتے جو میں سنتا ہوں۔ پھر فرمایا:اب دوسرے کو بھی مارا جا رہا ہے۔ پھر فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اسے بھی اس قَدَر زور سے مارا گیا ہے کہ اس کی بھی ہر ہر ہڈّی جُدا ہو گئی ہے اور اس کی قَبْر میں بھی آگ بھڑکا دی گئی ہے، اس نے بھی ایسی چیخ ماری ہے جسے جنّ و اِنسان کے علاوہ تمام مخلوق نے سن لیا ہے اور اگر تمہارے دلوں میں فساد نہ ہوتا اورتم زیادہ کلام نہ کرتے تو تم بھی وہ سنتے جو میں سنتاہوں۔صَحابہ کرام عَلَیْھِمُ  الرِّضْوان نے عرض کی:یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !ان دونوں کا گناہ کیا ہے؟ارشاد فرمایا:پہلا پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا لوگوں کا گوشت کھاتا (یعنی غیبت کرتا)تھا۔
 (صَرِیحُ السُّنَۃ لِلطّبَری ص۲۹حدیث۴۰)
مسلمانوں!ڈرجاؤ!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس روایت میں غیبت کرنے اور پیشاب سے نہ بچنے والوں کیلئے عبرت کے بے شمارمَدَنی پھول ہیں،پیشاب کر کے جو لوگ پاکی حاصِل نہ کر کے بدن اور کپڑے وغیرہ ناپاک کر لیتے ہیں اُن کو بھی ڈر جانا چاہئے،فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:پیشاب سے بچو عام طور پر عذابِ قبر اِسی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
   ( سُنَنِ دارقُطنی ج۱ ص۱۸۴ حدیث۴۵۳)
اِس ضمن میں ایک لرزہ خیز حکایت مُلا حَظہ ہو چُنانچِہ
پیشاب سے نہ بچنے والے كی قبر سے پكار!
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ413 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''عُیُون الحکایات''حصّہ دُوُم صَفْحَہ187پر حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہیں:ایک مرتبہ دورانِ سفر میرا گزر زمانہ جاہلیت کے قبرستان سے ہوا ۔یکایک ایک مُردہ قَبْر سے باہَر نکلا، اُس کی گردن میں آگ کی زنجیربندھی ہوئی تھی ، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا۔ جب اُس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا :''اے عبداللہ !مجھے تھوڑا سا پانی پلا دو!''میں نے دل میں کہا:اس نے میرا نا م لے کر مجھے پکارا ہے یا تو یہ مجھے جانتا ہے یا عَرَبوں کے طریقے کے مطابق ''عبداللہ''کہہ کر
Flag Counter