(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَطج۵ ص۱۱۸ حدیث ۶۷۷۲)
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتاوٰی رضویہ شریف جلد21 صَفْحَہ 184پر فرماتے ہیں:سُنیّوں کو غیر مذہب والوں سے اِختِلاط(میل جول)ناجائز ہے خُصُوصاً یُوں کہ وہ (بدمذہب )افسر ہوں(اور)یہ (سُنّی )ماتحت ۔
(یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے)
وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾
ترجَمہ کنزالایمان:اور جو کہیں تجھے شیطان بُھلاوے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔
رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے:تم ان سے دُور رہو اور وہ تم سے دُور رہیں، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔
( مُقدّمہ صَحیح مُسلِم ص۹حدیث ۷)
بدمذہب سے دینی یا دنیاوی تعلیم لینے کی مُمانَعَت کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:غیر مذہب والیوں(یا والوں )کی صُحبت آگ ہے، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب(بھی)اس میں بگڑ گئے ہیں۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ،خارِجی مذہب کی عورت(سے شادی کرکے اس)کی صُحبت میں (رہ کر)مَعاذَاللہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ(اس سے شادی کر کے)اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے ۔(یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت ''پکّاسُنّی''تصوُّر کرتے اور کہتے