اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے دورانِ سفر مجھے سانس کی کوئی تکلیف نہ ہوئی اور
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
میں سیدھی داڑھ سے بِغیر کسی تکلیف کے کھانا بھی کھا رہا ہوں ۔میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عقائدِ اَہلسنّت حق ہیں اور میرا حُسنِ ظن ہے کہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول اللہ ا ور اس کے پیارے رسول عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں مقبول ہے ۔
چھائے گر شیطنَت ،تو کریں دیر مت قافلے میں چلیں،قافِلے میں چلو
صحبتِ بد میں پڑ، کر عقیدہ بگڑ گر گیا ہو چلیں، قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بدمذہبوں سے دور رہنے كی حدیثوں میں تاكید
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے!دعوتِ اسلامی کے عاشقانِ رسول کے سنّتوں کی تربیّت کیمَدَنی قافِلے میں سفر کی کیسی برکتیں ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اُس خوش نصیب اسلامی بھائی کو دُرُودِ پاک کی کثرت کی بَرَکت سے دعوتِ اسلامی کا مَدَنی قافِلہ بھی مِلا اوراُس پر ہدایت کا راستہ بھی کُھلا۔ یہ اسلامی بھائی بد مذہبوں کی صُحبت کی وجہ سے سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے ،ہم سبھی کو چاہئے کہ بُری صُحبت سے ہمیشہ دُور رہیں اور فَقَط عاشقانِ رسول ہی کی صُحبت اپنائیں۔ بدمذہبوں کی صُحبت ایمان کیلئے زہرِ قاتل ہے،ان سے دوستی اور تعلُّقات رکھنے کی احادیثِ مبارکہ میں مُمانَعَت ہے۔ چُنانچِہ سلطانِ عَرَب،محبوبِ رب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''جو کسی بد مذہب کو سلام کرے یا اُس سے بَکُشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اُس سے پیش آئے جس میں اُس کا دل