مومن كی حُرمت كعبے سے بڑھ كر ہے
سُنَنِ اِبنِ ماجہ میں ہے :خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کعبہ معظمہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا :مومن کی حُرمت تجھ سے زِیادہ ہے۔
(سُنَنِ اِبن ماجہ ج۴ ص۳۱۹ حدیث ۳۹۳۲)
سرکارِمدینہ منوّرہ،سردارِمکّہ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ ۔
یعنی مسلمان وہ ہے کہ اس کے ہاتھ اور زَبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔
(صَحیح بُخاری ج۱ص۱۵حدیث۱۰)
دائرہ ایمان سے نكل جانے كا خطرہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کامل مسلمان وُہی ہے جوزَبان سے کسی کو گالی نہ دے، بِلا اجازتِ شَرعی کسی کو بُرا نہ کہے، کسی کی غیبت نہ کرے، کسی کو بے وقوف نہ کہے،کسی کے عیب کو نہ کھولے،کسی کا بھید نہ کھولے اور ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ دے، کسی کی دل آزاری نہ کرے،بِلا اجازتِ شَرعی کسی کو نہ مارے، کسی کو تنقید بے جا کا نشانہ نہ بنائے ، جو شخص ایسا نہ ہوا بلکہ لوگوں کو اُس نے ہر طرح کی تکلیف دی، ہاتھ سے مارا،آنکھ سے کسی کی طرف ایذاء دینے والے انداز سے اشارہ کیا، ہر شخص اُس سے تنگ و بیزار رہا تو وہ شخص کامِل مسلمان نہیں ہے، ایمان اس کے دل میں مضبوط نہیں ہے ،