Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
58 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
مسلمان كی بے عزّتی كبیرہ گناہ ہے
رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عالیشان ہے:بے شک کسی مسلمان کی ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہوں ميں سے ہے۔
  (سُنَنِ ابوداو،د ج۴ ص۳۵۳حدیث۴۸۷۷)
خدا عزّوجل ومصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم كو ایذا دینے والا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقت یہ ہے کہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کا محافظ ہے مگر افسوس!ایسا نازک دور آ گیا ہے کہ اب اکثر مسلمان ہی دوسرے مسلمان بھائی کی عزّت کے پیچھے پڑا ہوا ہے جی بھر کر غیبتیں کررہا ہے اور چغلیاں کھا رہا ہے ، بِلا تکلُّف تہمتیں لگا رہا ہے ، بِلا وجہ دل دُکھا رہا ہے، دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ، ''ظلم کا انجام'' صَفْحَہ19تا20پر ہے:حقوقُ العباد کامُعامَلہ بڑا نازُک ہے مگر آہ! آج کل بے باکی کا دور دورہ ہے، عوام توکُجا خواص کہلانے والے بھی عُمُوماً اِس کی طرف سے غافل رہتے ہیں۔غصّے کا مرض عام ہے اس کی وجہ سے اکثر''خواص''بھی لوگوں کی دل آزاری کر بیٹھتے ہیں او ر اس کی طرف ان کی بالکل توجُّہ نہیں ہوتی کہ کسی مسلمان کی بِلاوجہ شَرعی دل آزاری گناہ وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت ر حمۃاللہ تعالیٰ علیہ فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صَفْحَہ 342 میں طَبَرانِی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں:سلطانِ دو جہان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:
مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ.
 (یعنی)جس نے (بِلاوجہِ شَرعی)کسی مسلمان کو ایذاء دی اُس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو ایذاء دی۔
 (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۲ ص۳۸۷ حدیث ۳۶۰۷)
اﷲو رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذاء دینے والوں کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ پارہ22 سورۃُ الْاَحزاب آيت 57 میں ارشاد فرماتاہے:
Flag Counter