جھومئے:چُنانچِہ صوبہ پنجاب کے شہرخوشاب ميں ايک گونگے بہرے اسلامی بھائی جو دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی برکت سے گناہوں سے تائب ہوکر نیکیوں کی راہ پر گامزن ہوچکے تھے۔ اُن کے گھر کے قريب ايک گونگے بہرے شخص کی رہائش تھی جو قاديانی تھا۔یہ ''گونگے اسلامی بھائی ''اُس گونگے قادیانی سے ملاقات کر کے اشاروں کی زَبان میں اِنفِرادی کوشِش کرتے ہوئے راہِ حق کی دعوت پیش کیاکرتے اور اسے سمجھاتے کہ دینِ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس ميں دنیا و آخرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں اور حقیقی قلبی سکون بھی اسی مذہبِ حق کی قبولیَّت میں ہے۔وہ گونگاقاديانی دعوتِ اسلامی کے گونگے مبلِّغ کی پُر تاثیر مَدَنی باتوں میں دلچسپی توليتا مگر کوئی واضح جواب نہ دیتا۔ وہ (گونگا قادیانی)کچھ دنیوی مسائل کی وجہ سے بہت پريشان تھا اور سکون کی تلاش میں تھا۔اسی دَوران دعوتِ اسلامی کے گونگے مبلِّغ نے اسے دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی تین روزہ سنّتوں بھرے اجتماع ميں شرکت کی دعوت دی، جسے اس نے قبول کرلیا ۔ جب وہ ''گونگاقادِيانی''مد ینۃ الاولياء (ملتان شريف)دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کے لئے صحرائے مدینہ پہنچا توہر طرف سبز سبز عمامہ شریف کی بہاریں اوردُرود وسلام کی صدائیں تھیں ،اَلغَرَض ایک عجیب روح پَرور سماں تھا۔یہ مناظر دیکھ کر وہ گونگا قادِیانی اس مَدَنی ماحول سے اسقدرمُتأَثِّر ہوا کہ اس نے وہیں اجتماع میں اپنے باطل مذہب قادیا نیَّت سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگيااور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غلامی کا پٹا اپنے گلے میں ڈال کر ''قادِری رضوی ''بھی بن گيا۔