اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
نیک بندہ بنے گا اور غیبت وغیرہ سے نفرت ر کھے گا۔
ہاں اگر مُنّا محض بولنے کی خاطر نہیں بول رہابلکہ آپ سے فریاد کر کے انصاف طلب کر رہا ہے تو بے شک اُس کی فریاد سنئے اورامداد کیجئے ۔ مَثَلاً مُنّا کہنے لگا کہ مُنّی نے میرا کھلونا چھین کر کہیں چُھپا دیا ہے تو یہ غیبت نہیں، کیوں کہ مُنّا ماں باپ سے فریاد نہیں کریگا تو کس سے کریگا !لہٰذا آپ مُنّی سے اُس کاکھلونا دلا دیجئے ۔ اب اگر کھلونا مل جانے کے بعد مُنّا اِسی بات کو مُنّی کی غیر موجودَگی میں مَثَلاً اپنی امّی سے ذِکر کرتا ہے کہ ''مُنّی نے میر اکھلونا چھین کر چُھپا دیا تھا تو اَبّو نے مُنّی کو ڈانٹ پلائی اور مجھے میرا کھلونا واپس دلایا''تو یہ بہرحال غیبت ہے اگرچِہ بچوں کو اس کا گناہ نہ ہو۔عُمُوماً بچّے جن لوگوں سے مانوس ہوتے ہیں ان کو فریاد کرتے رہتے ہیں تو اگر کسی سے مذکورہ مثال کی مانند فریاد کی اور وہ فریاد رسی یعنی امداد نہیں کر سکتا ۔ تو اب غیبت پر مبنی فریاد نہ سنے بلکہ حتَّی الاِمکان اچّھے انداز میں بچّے کو ٹال دے ۔
بچّوں سے صادِر ہونے والی غیبت کی 22مثالیں
*میر اکِھلونا توڑ دیا ہے *میری ٹافی چِھین کر کھالی * میری آئسکریم گِراد ی * مجھے پیچھے سے ''ہاؤ '' کر کے ڈرا دیتا ہے، شریر کہیں کا* مجھ پر بلّی کا بچّہ ڈالدیا* مجھے ''گندا بچّہ''کہہ کر چِڑاتا ہے* میر ی نوٹ بُک پھاڑ دی *مجھے دھکّا دے کر گرا دیا*میرے کپڑے گندے کر دیئے* اپنی بابا سائیکل میرے پاؤں پر چڑھا دی *اپنے کپڑے گندے کر دیتا ہے *وہ گندابچّہ ہے *امّی کے پاس میری چُغلیاں لگاتا ہے * جھوٹ بول کراستادسے مجھے