Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
54 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
میں آیا بولدیا جاتا ہے۔ یہاں نُمُونتاً صرف 17مثالیں پیش کی جاتی ہیں جو کئی صورتوں میں غیبت میں داخِل ہوسکتی ہیں:* بستر گندا کردیتا ہے* اتنا بڑا ہوگیا مگر تمیز نہیں آئی* اِس کو جھوٹ کی عادت پڑ گئی ہے* چھوٹی بہن کو نوچتا ہے * چھوٹے منّے کوگود میں لو تو بڑا منّا حسد کرتا ہے* دونوں منّے ایک دوسرے کی چُغلیاں کھاتے رہتے ہیں* چھوٹا پڑھائی میں بَہُت ذِہین ہے مگر بڑا 8سال کا ہوا ابھی تک کُند ذِہن ہے* ماں کو بَہُت تنگ کرتا ہے * مُنّی رات کو بَہُت چیختی ہے نہ سوتی ہے نہ کسی کوسونے دیتی ہے*مُنّے نے غصّے میں لات مار کر پانی کاکولر اُلَٹ دیا *بَہُت چِڑچِڑا ہو گیا ہے *بات بات پر روٹھ جاتا ہے* روزانہ کھانے کے وقت جھگڑتا ہے* پڑھنے میں کمزور ہے* بڑی بچّی نے چھوٹی والی کو بال کھینچ کر گرا دیا* بس لڑتا ہی رہتا ہے *صبح اٹھا اٹھا کر تھک جاتے ہیں مگر جواب نہیں دیتا وغیرہ ۔
بچّوں كو غیبت مت كرنے دیجئے
عُمُوماً بچّے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور دیگر گھر والوں کی اپنی تُتلی زَبان میں یا اشاروں سے غیبتیں کرتے رہتے ہیں اور گھر والے ہنس ہنس کر داد دیتے ہیں، کبھی کسی کو لنگڑا تا دیکھ لیتے ہیں تو خود بھی اِس کی نَقل اُتارتے ہوئے لنگڑا کر چلتے ہیں اور گھر والوں سے داد وُصول کرتے ہیں حالانکہ کسی مُعَیَّن و معلوم مَعذور کی اِس طرح کی نَقّالی بھی غیبت ہے۔ باپ جب کام کاج سے شام کو لوٹتا ہے تو عام طور پر بچّہ یا بچی دن بھر کی''کارکردَگی ''سناتے ہیں ، اِس سے لطف تو بَہُت آتا ہے مگر اُس کارکردگی میں غیبتوں کی بھی اچّھی خاصی بھر مار ہوتی ہے!بچّوں کو تو گناہ نہیں ہوتا مگراولاد کی صحیح تربیّت کرنا چُونکہ والِدَین کی ذمّے داری ہے اور یوں بچّوں کی زَبانی غیبتیں سننے سے اولاد کی غَلَط تربیت ہوتی ہے لہٰذا اولاد کی غَلَط تربیَّت کا وَبال ماں باپ کے سر آجاتا ہے،یقینا بچّوں کے غیبت کرنے پر ہنس پڑنے سے اُن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ گویا اِس طرح غیبت کی تربیَّت حاصِل کرتے رہتے اور بے چارے بالِغ ہونے کے بعد اکثر غیبت کے گناہ میں پکّے ہو چکے ہوتے ہیں۔لہٰذا جب بھی بچّہ غیبت کرے،چُغلی کھائے یا جھوٹ بولے تو اُس کی تُتلی زَبان سے محظوظ یعنی لُطف اندوز ہوتے ہوئے
Flag Counter