لیکن راقِمُ الحُرُوف (یعنی مولیٰنا عبد الحیی صاحِب)کے نزدیک تفصیل بہتر ہے:(1)ایسا نابالِغ بچّہ جو
(یعنی تھوڑی بَہُت)سمجھ رکھتا ہو کہ اپنی تعریف پر خوش اور اپنی بُرائی سے ناخوش ہوتا ہو جیسا کہ مَعْتُوہ(یعنی آدھا پاگل بھی اپنی تعریف اور مذمّت کی سمجھ رکھتا ہے)تو ایسے نابالِغ (بچّے)کی غیبت جائز نہیں اِسی طرح نیم پاگل کی بھی ناجائز ہے (2)ایسے ناسمجھ بچّے (مَثَلا دُودھ پیتے بچّے)اور پاگل کی بھی غیبت جائز نہیں جن کا کوئی والی وارِث ہے ،بے شک وہ بچّہ یا پاگل اپنی تعریف یا بُرائی سمجھنے کی تمیز نہیں رکھتا تا ہم ان کے عیب بیان کرنے سے ان کے ماں باپ وغیرہ کو بُرا لگے گا (3)ایسا لاوارِث بچّہ یا لاوارِث پاگل جو اپنی تعریف و غیبت سے خوش اور ناخوش ہونے کی صلاحیّت نہیں رکھتا اُس کی غیبت جائز ہے مگر زَبان کو ایسوں کی غیبت سے بھی روکنا ہی بہتر ہے(کیوں کہ بعض فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام نے مُطلَقاً یعنی ایک دن کے بچّے اور مکمَّل پاگل کی غیبت کو بھی حرام قرار دیا ہے)
(ماخوذاز: غیبت کیا ہے ص ۲۰،۲۱)
چھوٹے بچّے كی غیبت كی 17مثالیں
بَہَر حال پاگل ہو یا سمجھدار، بالِغ ہو یا نابالِغ ، بوڑھا ہو یا دودھ پیتا بچّہ ہر ایک کی غیبت سے بچنا چاہئے ، بچّوں کی غیبتوں کی بے شمار مثالیں ہو سکتی ہیں، کیوں کہ ان کی غیبت کے گناہ ہونے کی طرف بَہُت کم لوگوں کی توجُّہ ہے، جو مُنہ