Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
53 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
بیان نہ کی جائے۔ماں باپ اور گھر کے دیگر افراد کیلئے لمحہ فکریہ ہے ان کوچاہئے کہ بِلا ضَرورت اپنے بچّوں کو پیچھے سے(اور منہ پر بھی)ضِدّی، شرارتی،ماں باپ کانافرمان وغیرہ نہ کہا کریں۔
كس بچّے كی غیبت جائزہے اور كس كی ناجائز؟
حضرتِ علامہ عبد الحیی لکھنوی علیہ رَ حمۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں:حضرتِ علامہ سیِّدُنا ابنِ عابِدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی نے امامِ ابنِ حَجَرعلیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکبر سے نَقل کیا ہے:''جس طرح بالِغ کی غیبت حرا م ہے اُسی طرح نابالِغ اورمَجنون (یعنی پاگل)کی غیبت بھی حرام ہے۔ ''
 (رَدُّالْمُحتار ج۶ص۶۷۶)
لیکن راقِمُ الحُرُوف (یعنی مولیٰنا عبد الحیی صاحِب)کے نزدیک تفصیل بہتر ہے:(1)ایسا نابالِغ بچّہ جو
فِی الْجُملہ
(یعنی تھوڑی بَہُت)سمجھ رکھتا ہو کہ اپنی تعریف پر خوش اور اپنی بُرائی سے ناخوش ہوتا ہو جیسا کہ مَعْتُوہ(یعنی آدھا پاگل بھی اپنی تعریف اور مذمّت کی سمجھ رکھتا ہے)تو ایسے نابالِغ (بچّے)کی غیبت جائز نہیں اِسی طرح نیم پاگل کی بھی ناجائز ہے (2)ایسے ناسمجھ بچّے (مَثَلا دُودھ پیتے بچّے)اور پاگل کی بھی غیبت جائز نہیں جن کا کوئی والی وارِث ہے ،بے شک وہ بچّہ یا پاگل اپنی تعریف یا بُرائی سمجھنے کی تمیز نہیں رکھتا تا ہم ان کے عیب بیان کرنے سے ان کے ماں باپ وغیرہ کو بُرا لگے گا (3)ایسا لاوارِث بچّہ یا لاوارِث پاگل جو اپنی تعریف و غیبت سے خوش اور ناخوش ہونے کی صلاحیّت نہیں رکھتا اُس کی غیبت جائز ہے مگر زَبان کو ایسوں کی غیبت سے بھی روکنا ہی بہتر ہے(کیوں کہ بعض فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام نے مُطلَقاً یعنی ایک دن کے بچّے اور مکمَّل پاگل کی غیبت کو بھی حرام قرار دیا ہے)
                                 (ماخوذاز: غیبت کیا ہے ص ۲۰،۲۱)
چھوٹے بچّے كی غیبت كی 17مثالیں
بَہَر حال پاگل ہو یا سمجھدار، بالِغ ہو یا نابالِغ ، بوڑھا ہو یا دودھ پیتا بچّہ ہر ایک کی غیبت سے بچنا چاہئے ، بچّوں کی غیبتوں کی بے شمار مثالیں ہو سکتی ہیں، کیوں کہ ان کی غیبت کے گناہ ہونے کی طرف بَہُت کم لوگوں کی توجُّہ ہے، جو مُنہ
Flag Counter