حَارِث مُحَاسِبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:غیبت سے بچ !بے شک وہ ایساعجیب شر(یعنی برائی)ہے جسے انسان خود آگے بڑھ کرحاصل کرتاہے ۔ تیرا اُس چیزکے بارے میں کیاخیال ہے جوتجھے اِحسان فراموشی پراُبھارے، تیری اتنی نیکیاں چھین کر اُن کو دے دے جن کی تُونے غیبت کی ہے یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائیں کیونکہ بروزِ قیامت درہم ودینارکام نہیں آئیں گے ۔بے شک!جتنا تُو مسلمانوں کی عزّت کو نقصان پہنچائے گااُتنی ہی مقدارمیں تیرا دین تجھ سے لے لیاجائے گا،لہٰذاغیبت سے بچ،غیبت کے مَنبع(یعنی نکلنے کی جگہ)اور اس کے اسباب کوپہچان کہ تجھ پر غیبت کن کن جگہوں سے آتی ہے ۔مزید فرماتے ہیں:توجُّہ سے سُن!بے شک بعض جاہل و نادان اس اندازپر بھی غیبت میں مبتلا ہوتے ہیں کہ گنہگاروں پرخواہ مخواہ غصَّے ہوتے اوران سے حسد اوربدگُمانی کرتے ہیں پھرشیطان کے بہکاوے میں آکر مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ اُس غصّے کو''دینی غیرت''کانام دیتے اوریہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ میں اپنی ذات کیلئے غصّہ نہیں کر رہامیں تو دین کے نقصان کی وجہ سے فُلاں کو بُرا بھلا کہتا یا ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہوں!یہ ایسی برائیاں ہیں جو کہ عقلمند وں سے پوشیدہ نہیں۔ بعض لوگ اہلِ علم ہونے کے باوُجُود شیطان کے دھوکے میں آکر جب کسی کی بُرائی بیان کرتے ہیں توکہتے ہیں:''ہم تواس کی نصیحت اور اصلاح کے لئے ایساکررہے ہیں،ہم تواس کے خیر خواہ اور بھلائی چاہنے والے ہیں۔حالانکہ حقیقت میں ایسانہیں ہوتا کیونکہ اگر واقِعی وہ خیر(یعنی بھلائی)کے طالب ہوتے توکبھی غیبت جیسی آفت میں نہ پڑتے اوران کی نصیحت ان کیلئے غیبت پرمُعاوِن (مدد گار)نہ ہوتی ۔(بلکہ جس نے غلطی کی ہے براہِ راست اُس کو سمجھاتے یا اصلاح کا شَرعی طریقہ اختیار کرتے ،پیٹھ پیچھے غیبت کرتے پھرنا یہ کون سا اصلاح کا طریقہ ہے!)
توجُّہ سے سن!بسا اَوقات نیک پرہیز گار لوگ بھی حیرت کااظہارکرنے کے انداز میں اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کربیٹھتے ہیں۔ رہے استاد ،سردار اور افسر وغیرہ تو بعض دفعہ وہ شفقت ورحمدلی کے طریقے سے غیبت کی گہری کھائی میں جا گرتے ہیں۔مَثَلاََ اپنے شاگرد یا ماتحت کے بارے میں کہتے ہیں:''افسوس!وہ فُلاں فُلاں غَلَط کام (مثَلاً بُری صحبت یا