حضرت سيدنا عامر بن وَاثِلَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مَروی ہے کہ محبوبِ ربِّ کائنات، شَہَنْشاہ موجودات عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلّم کی (ظاہری)مبارَک حيات ميں ايک صاحِب کسی قوم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہيں سلام کیا،ان لوگوں نے سلام کا جواب ديا۔ جب وہ صاحِب وہاں سے تشریف لے گئے تو ان ميں سے ايک شخص نے ان صاحِب کے بارے میں کہا :''ميں اللہ تعالیٰ کے لئے اس شخص سے نفرت کرتا ہوں۔''جب ان صاحِب کواس بات کی خبر پہنچی توانہوں نے رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم کی خدمت ميں حاضِر ہو کر سارا ماجرا عرض کیا اور فریاد کی کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم ان کو بلاکر دریافت فرمائيے کہ مجھ سے کيوں نفرت کرتے ہیں؟ نبیِّ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ آدم و بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے اُسے بلواکرپوچھا تو انہوں نے اِقرار کیاکہ ميں نے يہ بات کہی ہے۔ارشاد فرمايا:تم اِس سے کیوں نفرت کرتے ہو؟ عرض کی:ميں ان صاحِب کا پڑوسی ہوں اور ميں ان کی بھلائی کا خواہاں ہوں،خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! ميں نے کبھی بھی فرض نَماز کے علاوہ انہیں (نفل)نَماز پڑھتے ہوئے نہيں ديکھا،جب کہ فرض نمازتو ہر نیک وبدپڑھتا ہے فریادی صاحِب نے عرض کی:يا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّوصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم !ان سے پوچھئے ،کیا اُنہوں نے مجھے فرض نَماز ميں تاخیر کرتے ہوئے ديکھا ہے؟ يا ميں نے وُضو ميں کوئی کوتاہی کی ہے؟يا رُکوع و سُجُود ميں کوئی کمی کی ہے؟ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم نے پوچھا تو اُنہوں نے انکار کرتے ہوئے عرض کی:میں نے اس میں ایسی کوئی بات نہیں دیکھی ۔پھراس نے مزید عرض کی :اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ميں نے ان صاحِب کو رَمَضانُ الْمبارَک کے علاوہ کبھی (نفلی)روزے رکھتے ہوئے نہيں ديکھا، اس مہینے(یعنی ماہِ رَمَضانُ المبارَک)کاروزہ تو ہر نيک و بد رکھتا ہے۔ يہ سُن کرفریادی نے عرض کی:يا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم ! ان سے پوچھئے ،کیا ميں نے کبھی رَمَضانُ الْمبارَک ميں روزہ چھوڑا ہے؟يا روزے کے حق ميں کوئی کمی کی ہے؟پوچھنے پر اُنہوں نے عرض کی :نہيں۔پھراس نے