آگ جلائی جائے گی اور اس میں بھی آگ کا قُفل لگایا جائے گا، پھر اِسی طرح اُس کو ایک اور صندوق میں رکھ کر اور آگ کا قُفل لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا، تو اب ہر کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ میں نہ رہا، اور یہ عذاب بالائے عذاب ہے اور اب ہمیشہ اس کے لیے عذاب ہے۔ جب سب جنَّتی جنَّت میں داخِل ہولیں گے اور جہنَّم میں صِرف وُہی رَہ جائیں گے جن کو ہمیشہ کے لیے اس میں رہنا ہے، اس وَقت جنَّت و دوزخ کے درمِیان موت کو مینڈھے کی طرح لا کر کھڑا کریں گے، پھر مُنادی (پکارنے والا)جنَّت والوں کو پکارے گا:وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے نکلنے کا حکم ہو، پھر جہنَّمیوں کو پکارے گاوہ خوش ہوتے ہوئے جھانکیں گے کہ شاید اِس مصیبت سے رِہائی ہو جائے، پھر ان سب سے پوچھے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے:ہاں!یہ موت ہے۔ وہ ذَبح کر دی جائے گی اور کہے گا:اے اہلِ جنَّت!ہمیشگی ہے، اب مرنا نہیں اور اے اہلِ نار!ہمیشگی ہے، اب موت نہیں، اُس وَقت اُن (یعنی اہلِ جنَّت)کے لیے خوشی پر خوشی ہے اور اِن(یعنی دوزَخیوں)کے لیے غم بالائے غم۔