(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص ۱۹۴)
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 344 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''مِنہاج العابدین''صَفْحَہ163تا164پر ہے:حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَدہم علیہ رَحْمَۃُ اللہ الاکرم ارشادفرماتے ہیں :میں کوہِ لبنان میں کئی اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام کی صحبت میں رہا ان میں سے ہرایک نے مجھے یہی وصیّت کی کہ جب لوگوں میں جاؤ توانہیں ان چار باتوں کی نصیحت کرنا :(1)جو پیٹ بھر کر کھائے گا اُسے عبادت کی لذّت نصیب نہیں ہوگی(2)جو زیادہ سوئے گا اس کی عمر میں بَرَکت نہ ہوگی(3)جو صِرف لوگوں کی خوشنودی چاہے گا وہ رِضائے الہٰی عَزَّوَّجَلَّ سے مایوس ہوجائے گا (4)جو غیبت او ر فُضُول گوئی زیادہ کریگا وہ دینِ اسلام پر نہیں مرے گا۔
(مِنْھاجُ الْعابِدِین(عربی) ص۹۸)
غیبت ایمان کیلئے نقصان دہ ہے
محبوبِ ربُّ العباد عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:غيبت اور چغلی ايمان کو اس طرح کاٹ ديتی ہيں جس طرح چرواہا درخت کو کاٹ ديتا ہے۔
(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۳ ص ۳۳۲ حدیث ۲۸)