Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
45 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ دُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے ۔
مُعافی مانگی۔
 (تَنبِیہُ الْغافِلین ص۸۶)
مُردار خور جہنَّمی
حضرتِ سيدنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرورِ کائنات،شاہِ موجودات صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مِعراج کی رات جہنَّم ميں ايسے لوگ ديکھے جومُردار کھا رہے تھے! اِسْتِفسار فرمایا(یعنی پوچھا):اے جبرئيل!يہ کون لوگ ہيں؟ عرض کی:يہ وہ ہيں جو لوگوں کا گوشت کھاتے(یعنی غیبت کرتے)تھے۔اور ایک شخص دیکھا جس کا رنگ سرخ اور آنکھیں انتہائی نیلی تھیں تو پوچھا:اے جبرئيل!يہ کون ہے؟ عرض کی:يہ(حضرتِ صالح
عَلیہِ الصَّلٰوۃ والسَّلام
کی )اونٹنی کی کُونْچَيں(یعنی ٹانگيں)کاٹنے والا ہے۔
                           (مُسند اِمام احمد بن حنبل ج۱ص۵۵۳ حدیث۲۳۲۴)
مُردار کاگوشت کھانا آسان نہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بظاہر غیبت کرنا بَہُت ہی آسان لگتا ہے، مگر یاد رکھئے! جہنَّم میں مُردار کاگوشت کھانا کوئی آسان بات نہیں، آج زندگی میں بکرے کا تازہ کچّا گوشت کوئی نہیں کھا سکتا ، بلکہ اگر پکانے میں کسر رَہ جاتی ہے،نمک مصالحہ(مَصَا۔لَ۔حَہ)کم ہوتا ہے یا ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو بسا اوقات کھانے کو جی نہیں کرتا تو ذرا تصوُّر کیجئے کہ کچّا گوشت اور وہ بھی ذبح شدہ نہیں مُردار ، پھر حلال حیوان کا نہیں مرے ہوئے انسان کا!ایسا گوشت بھلا کون کھا سکتا ہے! مزید اِس روایت میں جس گہرے سرخ اور نیلے رنگ کے آدمی کا ذکر ہے :وہ قومِ ثَمودکا سب سے پرلے دَرَجے کا شریر اور خبیثُ النَّفس شخص''قَدار بِن سالِف''تھاجس نے حضرت سیِّدنا صالح
عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام
کی مقدّس اُونٹنی کی مبارَک ٹانگیں کاٹی تھیں ۔
      مجھے غیبتوں  سے  بچا  یا  الہٰی       گناہوں کی  عادت چھڑا یا الہٰی عزّوجل

      پئے مُرشدی دے  مُعافی خدایا       نہ دوزخ  میں  مجھ کو جلا یا الہٰی عزّوجل
Flag Counter