| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
نورانیَّت جاتی رہتی ہے۔ صَفْحَہ 996پرفرماتے ہیں:جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا ، بیہودہ (یعنی بے حیائی کی )بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزے میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزے میں کراہت آتی ہے ۔
کھولتے پانی اور آگ کے درمیان دوڑنے والا
نبیِّ آخر الزّمان ،شَہَنْشاہِ کون و مکان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:چار طرح کے جہنَّمی جوکہ حَمِيم اور جَحِيم(یعنی کھولتے پانی اور آگ )کے درمیان بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور (یعنی ھلاکت)مانگتے ہونگے۔ ان میں سے ایک شخص وہ ہوگا کہ جو اپنا گوشت کھاتا ہوگا ۔جہنَّمی کہیں گے:اس بد بخت کو کیا ہوا ہماری تکلیف میں اِضافہ کئے دیتا ہے؟ کہا جائے گا:یہ''بدبخت ''لوگوں کا گوشت کھاتا (یعنی غیبت کرتا)اور چغلی کرتا تھا ۔
(ذَمُّ الْغِیبَۃلِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ص۸۹ رقم ۴۹)
خوفِ گناہ ہو تو ایسا!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آہ! جہنَّم کا خوفناک عذاب!!غیبت و مَعصیت سے کنارہ کشی نہایت ہی ضَروری ہے ورنہ سخت سخت سخت مُصیبت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں پر ندامت ہونی اور اس کی وجہ سے دَہشَت کھانی چاہئے ۔ کاش!نصیب ہو جائے!اِس ضِمْن میں ایک حِکایت پڑھئے اور تڑپئے:ایک مرتبہ عابِدین یعنی نیک بندوں کا ایک قافِلہ جس میں حضرتِ سیِّدُنا عَطاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی موجود تھے سفر پر چلا ، کثرتِ عبادت کے سبب اُن عابِدین کی آنکھیں اندر کی طرف ہو گئی تھیں، پاؤں سوج گئے تھے اور اتنے کمزور ہوگئے تھے جیسے کہ خربوزے کے چھلکے! ایسا محسوس ہوتا تھا گویا ابھی ابھی قبروں سے نکل کر آئے ہیں!راہ میں ایک عابِد بے ہوش ہو گئے اور باوُجُود یہ کہ وہ دن سخت سردی کے تھے اُن کے سر سے بَسَببِ دَہشت پسینہ ٹپکنے لگا !ہوش آنے کے بعد لوگوں کے اِستِفسار پر بتایا:جب میں اس جگہ سے گزرا تو مجھے یاد آیا کہ فُلاں روز اِس مقام پر میں نے گناہ کیا تھا، اِس خیال سے میرے دل میں حسابِ آخِرت کی دَہشَت طاری ہو گئی اور میں بے ہوش ہو گیا۔
(اِحیاءُ الْعُلوم ج۴ص۲۲۹مُلَخَّصاً)