| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
نَماز و روزہ کی نو رانیّت گئی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غیبت کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی نُحوست سے عبادت کی نُورانیَّت رخصت ہو جاتی ہے چُنانچِہ ایک بار کا ذِکر ہے کہ دو روزہ دار جب نَمازِظہر یا عَصر سے فارِغ ہوئے تو(غیب جاننے والے)پیارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: تم دونوں وُضُو کرو اور نَماز دُہراؤ اور روزہ پورا کرو اور دوسرے دن اِس روزے کی قَضاء کرنا۔ اُنہوں نے عَرْض کی:یارسولَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ حُکْم کس لئے ہوا ؟ فرمایا :تم نے فُلاں شخص کی غیبت کی ہے۔
(شُعَبُ الْاِیمان ج۵ ص ۳۰۳ حدیث ۶۷۲۹ )
دو فرامینِ مصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غیبت عبادت کے حق میں بڑی تباہ کارہے ، اِس ضِمْن میں دو فرامینِ مُصطَفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مُلاحَظہ فرمایئے :(1)روزہ سِپَر ہے، جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی: کس چیز سے پھاڑے گا؟ ارشاد فرمایا:جھوٹ یا غیبت سے
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج ۳ ص۲۶۴حديث ۴۵۳۶)
(2)روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے اور پینے سے باز رہنا ہو، روزہ تویہ ہے کہ لغو و بیہودہ باتوں سے بچا جائے۔
(اَلْمُستَدرَک لِلْحاکِم ج۲ ص۶۷حديث ۱۶۱۱ )
کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
غیبت سے روزہ وغیرہ عبادت کی نُورانیَّت چلی جاتی ہے ۔ چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 984پرصدرُ الشَّریعہ ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:احتِلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا
(دُرِّمُختارج۳ص۴۲۱،۴۲۸)
اگرچِہ غیبت بَہُت سخت کبیرہ(گناہ)ہے۔ قراٰنِ مجید میں غیبت کرنے کی نسبت فرمایا:''جیسے اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانا۔''اور حدیث میں فرمایا:''غیبت زنا سے بھی سخت تر ہے۔''
(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط ج۵ص۶۳حدیث ۶۵۹۰)
اگرچِہ غیبت کی وجہ سے روزہ کی