| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہو اور اُس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
ہوگا لیکن یہ یاد رکھیں کہ عام لوگوں کیلئے اس طرح کے جملوں میں فرق سمجھنا اور قائم رکھنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ ایسے الفاظ سے بالکل گریز کیا جائے جس میں ہزاروں غیبتوں میں پڑجانے کا اندیشہ ہو۔
''اے کاش! لگ جائے قفلِ مدینہ ''کے انیس حُرُوف کی نسبت سے بَقر عید پر کئے جانے والے فُضُول سُوالات کی 19 مِثالیں
بقرعید کے موقع پر بِغیر لینے دینے کے کئے جانے والے فُضول سُوالات کی 19مثالیں:*گائے لینے کب جائیں گے؟*آج کل تو مَنڈی تیز ہوگئی ہو گی!*ہاں بھئی !گائے کتنے میں لائے؟*یار!گائے ہے تو بڑی جاندار! *کتنے دانت کی ہے؟* ٹکّر تو نہیں مارتی؟*چلا کرلائے یاسُوزُوکی میں* سُوزُوکی والے نے کتنا کرایہ لیا؟*کب کٹے گی؟* قصّاب وَقت پر آیا یا نہیں؟*قصّاب چُھری پھیر کر چلاگیا پھر بڑی دیر سے آیا *ہاں یار! قَصّاب لوگ لٹکادیتے ہیں* فُلاں کی گائے قَصّاب کے ہاتھ سے چُھوٹ کربھاگ کھڑی ہوئی، بڑا مزا آیا! * ہاں یار! قَصّاب اَناڑی تھا!(اِس جملے میں غیبت ، تہمت،دل آزاری،بدگمانی اور بداَلقابی وغیرہ گناہوں کی بدبو ہے البتّہ اگر واقِعی وہ قصّاب اَناڑی ہو اور جس کوبتایا اس کو اُس سے بچانا مقصود ہو تو اِس جملے میں حَرَج نہیں)*آپ کا بکر اکتنے دانت کا ہے؟*کتنے میں ملا؟*اوہو! بڑا مہنگا ملا*چلتا بھی ہے یا نہیں؟ * کتنی کٹائی لگی؟ وغیرہ وغیرہ۔
''جھوٹ ہلاکت خیز ہے '' کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے جھوٹ پر مجبور کرنے والے سُوالات کی14 مثالیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض اوقات لوگ ایسے سُوالات کر دیتے ہیں کہ جواب دینے میں بے احتیاطی اور مُرُوَّت کی وجہ سے آدمی کے منہ سے جھوٹ نکل سکتا ہے اگر چِہ سُوال کرنے والا گنہگار نہیں تاہم مسلمانوں کو گناہوں سے بچانے کیلئے بِلاضَرورت اِس طرح کے سُوالات سے اجتناب (یعنی پرہیز) کرنا مناسِب ہے۔ سُوالات کی 14مثالیں