| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
اس طرح کے سُوالات کی14 مثالیں پیشِ خدمت ہیں اگر ضَرورت ہے توٹھیک اور اِس کے بِغیر کام چل سکتا ہے تو مسلمانوں کو شرمندَگی یا گناہوں کے خَدشات سے بچایئے۔مَثَلاً * ہاں بھئی کیا ہو رہا ہے ! *یار! آج کل دُعا وُعا نہیں کرتے!*ارے بھائی !ناراض ہو کیا ؟ *یار!لگتا ہے آپ کو مزا نہیں آیا!* یہ گاڑی کتنے میں خریدی ؟ * کس سال کا ماڈَل ہے؟* آپ کے عَلاقے میں مکان کا کیا بھاؤ چل رہا ہے؟ *یار!مہنگائی بَہُت زیادہ ہے* فُلاں جگہ پر موسِم کیسا ہے؟ * اُف ! اتنی گرمی !* آج کل تو کڑ کڑاتی سر دی ہے* نہ جانے یہ بارش اب رُکے گی بھی یا نہیں!*ذرا بارش آئی کہ بجلی گئی!*آپ کے یہاں بجلی تھی یا نہیں؟ وغیرہ وغیر ہ ۔ عُمُوماً مُتَذَکَّرہ (مُ۔تَ۔ذَک۔کَرَہ)کلمات اور اس طرح کے بے شمار فِقرات بِلا ضَرورت بولے جاتے ہیں۔تاہم اس طرح کے جملے بولنے والے کے مُتَعلِّق کوئی بُری رائے قائم نہ کی جائے،بلکہ حسنِ ظن ہی سے کام لیا جائے کہ ہو سکتا ہے جو بات فُضول لگ رہی ہے اِس میں قائل کی کوئی مَصلَحت ہو جو میں نہیں سمجھ سکا۔بِالفرض وہ سُوال یا جملہ فُضُول بھی ہو تب بھی قائِل گنہگار نہیں ۔
تھوک بند غیبتوں کی چار مثالیں
اگر کسی گروپ ، آبادی ، یا محکمے کی بُرائی کی اور اس سے اُس قوم وغیرہ کے ہر ہر فرد کی بُرائی کرنا مقصود ہو تو گویا بُرائی کرنے والے نے ایک ہی جملے میں اس قوم کی تعداد کے برابر غیبتیں کر ڈالیں، اب اگر اُس قوم میں10ہزار افراد ہیں تو 10ہزار غیبتوں کاگناہ ہوا۔ اِس کی چار مثالیں پیش کی جاتی ہیں:*ہمارا سارا ہی خاندان (یا سارا گاؤں)گمراہ ہو گیا ہے ایک میں ہی بچا ہوا ہوں(عُمُوماً ایسا نہیں ہوتا، بڑے بوڑھے ،خواتین اور بچّے اکثر محفوظ ہوتے ہیں)*ہمارے سارے ہی سرکاری افسررشوت خورہیں*الیکڑک سپلائی والے سب کے سب بد معاش ہیں (معاذاللہ)* حکومت میں سب کے سب چور بھرے ہیں وغیرہ۔البتّہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی جملے میں'' کل یا اس سے ملتا جلتا''کوئی لفظ ہوتا ہے لیکن وہاں عرفا تمام لوگ نہیں بلکہ اکثر افرادمُراد ہوتے ہیں تو اگر قائل یعنی کہنے والے نے ہر ہر فرد مُراد نہ لیا ہو تو ایسی جگہ پر تمام لوگوں کی غیبت کا حکم نہیں