| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
* اس نے اپنے من پسند لوگوں کو ہی نوکریاں دلوائی ہیں * سرکاری خزانے پر عیش کررہا ہے *ہم نے اسے ووٹ دئیے مگر اس نے ہمارے لئے کچھ نہیں کیا *اندر کھاتے فُلاں پارٹی سے ملا ہوا ہے* وطن کا غدّار ہے۔
''وقت قیمتی دولت ہے ''کے چودہ حُرُوف کی نسبت سے فُضُول جملوں کی14 مثالیں
افسوس صدا فسوس! آج کل اچّھی صحبتیں کمیاب ہیں۔ کئی ''اچّھے نظر'' آنے والے بھی بد قسمتی سے بھلائی کی باتیں بتانے کے بجائے فُضُول باتیں سنانے میں مشغول نظر آرہے ہیں۔ کاش! ہم صِرف ربِّ کائنات عَزَّوَجَلَّ ہی کی خاطِر لوگوں سے ملاقات کریں اور ہماراملنا صِر ف ضَرورت کی بات کرنے کی حد تک ہو۔ مصطَفٰے جانِ رحمت ،شمعِ بزمِ ہدایت نوشہ بزمِ جنَّت،مَنبع جودوسخاوت، سراپا فضل و رَحمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عافیّت نشان ہے:''آدَمی کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔''
(مُوطّا امام مالک ج۲ص ۴۰۳ حدیث ۱۷۱۸ )
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی یہ حدیثِ پاک نقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں:یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اُس میں نہ پڑے، زَبان و دل و جَوارِح(یعنی اعضا )کو بے کار باتوں کی طرف مُتَوَجِّہ نہ کرے۔
(بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص ۱۶۳)
یاد رہے !فُضُول باتیں کرنا گناہ نہیں اَلبتّہ ان سے بچنا مناسِب ہے چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:بے فائدہ باتوں میں مصروف ہونایا فائدہ مند گفتگو میں ضَرورت سے زیادہ الفاظ ملا لینا حرام یا گناہ نہیں اَلبتّہ اسے چھوڑنا بَہُت بہتر ہے۔''
(اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ ص ۱۴۳)
غیرضَروری باتیں کرتے کرتے '' گناہوں بھری ''باتوں میں جا پڑنے کا قوی امکان رہتا ہے لہٰذا خاموشی ہی میں بھلائی ہے۔ ہمارے مُعاشَرے میں آج کل بِلا حاجت ایسے ایسے سُوالات بھی کئے جاتے ہیں کہ سامنے والا شرمندہ ہو جاتا ہے اور اگر جواب میں احتیاط سے کام نہ لے تو جھوٹ کے گناہ میں بھی پڑ سکتا ہے۔ بسا اوقات اِس طرح کے سُوالات ضَرورتاً بھی کئے جاتے ہیں اگر ایسا ہے تو فُضُول نہ ہوئے۔