Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
381 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
ایک ادھیڑ عمر کے اسلامی بھائی نے قریب آ کر ہمیں سلام کیا اور فرمانے لگے:اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں!ہم نے کہا :فرمائیے!اُنہوں نے بڑے ہمدردانہ لہجے میں کہا :آپ حضرات کے اجتماع میں شرکت کاانداز دیکھ کرمجھے اپنی پچھلی زندَگی یاد آگئی!میں نے سوچا کہ اپنی آپ بیتی گوش گزار کروں کہ شاید آپ لوگوں کو اس میں کچھ عبرت کے مَدَنی پھول مل جائیں۔پھر انہوں نے اپنی داستانِ ہدایت نشان کچھ اس طرح بیان کرنی شروع کی :پہلے پہل میری سگریٹ نوشی کی عادت پڑی اور پھر بُرے دوستوں کی صُحبت کی نُحُوست نے مجھے چَرَس اور ہیروئن جیسے مُہلِک نشے کا عادی بنادیا ،آہ! میں سولہ سال تک نشے کا عادی رہا۔یہ بتاتے ہوئے ان کی آواز بھرّ اگئی،مگر بیان جاری رکھتے ہوئے کہا: میری بُری عادتوں سے بیزارہوکر مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ میں فُٹ پاتھ پر سوتا اورکچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر یا مانگ کر کھا تا ۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے کہ میں نے ایک ہی لباس میں سولہ سال گزار دئیے!میری کیفیت بالکل ایک پاگل کی طرح ہوچکی تھی!

     ایک مقدّس رات کا قصّہ ہے، غالِباً وہ رَمَضانُ المُبارَک کی ستائیسویں شب تھی۔ میں اِسی گندی حالت میں بدمست ایک گلی کے کونے میں کچرا کونڈی کے پاس لیٹا ہوا تھاکہ سلام کی آواز پر چونکا!جب آنکھیں ملتے ہوئے دیکھاتو میرے سامنے سبز سبز عمامہ سجائے دواسلامی بھائی کھڑے مُسکرارہے تھے، انہوں نے بڑی مَحَبَّت سے  میرا نام پوچھا،شاید زندگی میں پہلی بار کسی نے اتنی مَحَبَّت سے مجھے مخاطب کیا تھا۔ پھر انفِرادی کوشِش کرتے ہوئے اُنہوں نے شبِ قدر کی عظمت سیمُتَعَلِّق بڑی پیاری پیاری باتیں بتائیں۔ میں ان کے اپنائیت والے انداز اور حسنِ اَخلاق کی بِنا پر ویسے ہی مُتأَثِّر(مُتَ۔ءَ ثْ۔ثِر)ہوچکا تھا ، مزید ان کی شہد سے بھی میٹھی میٹھی مَدَنی گُفتگو تاثیر کا تیر بن کر میرے جگر میں پیوست ہو گئی،میں ان کے ساتھ مسجِد کی طرف چل پڑا۔ مسجِد کے غسل خانے میں اپنا میلا چِکَّٹ لباس اُتارا اور غسل کرکے صاف سُتھرے کپڑے پہن کر 16سال بعد جب پہلی بار مسجِد میں داخِل ہو کر نماز کیلئے میں نے
Flag Counter