صورتِ مسؤلہ(یعنی پوچھی گئی صورت)میں ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو ہوٹل والوں کا مُفت کھلانا اور ان کا مُفت کھانا ناجائز وحرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے کیوں کہ یہ رِشوت ہے۔ ہوٹل والے ان کو اس لئے مُفت کھانا دے رہے ہیں تاکہ یہ آئندہ بھی بس اِسی ہوٹل پر روکیں۔ ہوٹل والے اپنا کام نکلوانے کیلئے یہ کھانا وغیرہ دیتے ہیں اور یہی رِشوت ہے ۔ فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام فرماتے ہیں:رِشوت اور تحفے میں فرق یہ ہے کہ رِشوت اس شرط پر دی جاتی ہے کہ جسے رِشوت دی گئی وہ دینے والے کی مدد کریگا جبکہ تحفے کے ساتھ ایسی کوئی شرط نہیں ہوتی ۔
حضرت سیَّدناثَوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رشوت دینے والے ،رشوت لینے والے اوران دونوں کے درمیان مُعامَلہ کروانے والے پرلعنت فرمائی ہے ۔
(مُسندِ اِمام احمد ج۸ص۳۲۷حدیث۲۲۴۶۲)
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 480 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ''بیاناتِ عطّاریہ''حصّہ اوّل کے صَفْحَہ211پر ہے :مُکاشَفَۃُ الْقُلوب میں ہے:آدَمی کے پیٹ میں جب لقمہ حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فِرِشتہ اُس پر لعنت کریگا جب تک اس کے پیٹ میں رہے گا اور اگر اسی حالت میں(یعنی پیٹ میں حرام لقمے کی موجودگی میں)موت آ گئی تو داخِل جہنَّم ہو گا۔