| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)تم جہاں بھی ہو مجھ پر دُرُود پڑھوکہ تمہارا دُرُود مجھ تک پہنچتا ہے ۔
کچھ یوں ہے کہ جب ہم نے ایک مُردے کو دفنانے کے لئے اس کے قریب قَبْر کھودی تو اتّفاق سے اُس کی قَبْرکھل گئی ہم نے اُس کی قَبْر میں ایک بَہُت بڑی زنجیردیکھی، ایک بَہُت بڑاسیاہ کتّا اُس زنجیر میں اس کے ساتھ بندھا ہوا اُس کے سر پر کھڑا تھا اور اسے اپنے پنجوں اور ناخنوں سے چیرنا پھاڑنا چاہتا تھا، ہم یہ خطرناک منظر دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ ہوئے اور جلدی جلدی اس کی قبر کو مٹّی سے ڈھانپ دیا۔
کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی قبر میں ورنہ سزا ہو گی کڑی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد تُوبُوا اِلَی اللہ! اَسْتَغْفِرُاللہ صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
''راہِ ہلاکت ''کے آٹھ حُرُوف کی نسبت سے ڈرائیور کی غیبت کی 8مثالیں
*گاڑی بَہُت رف چلاتا ہے* سگنل توڑ دیتا ہے * فُلاں بس والا اَووَر ٹیکنگ بَہُت کرتا ہے *اُس کو گاڑی چلانا کہاں آتی ہے* وہ ڈرائیور ٹرک چلاتے چلاتے سو جاتا ہے* بِغیر ڈرائیونگ لائسنس کے اسکوٹر چلاتا ہے *بس میں بھیڑ بکریوں کی طرح سُواریاں بھرتا ہے* لمبے روٹ پر یہ بس والا فُلاں ہوٹل پر بس روکدیتا ہے کیوں کہ یہاں اِس کو ہوٹل سے مفت کھانا ملتا ہے وغیرہ۔
لمبے روٹ کی بس وغیرہ کے ڈرائیوروں اور ہوٹل والوں کو گناہوں سے بچانے کے جذبے کے تحت دعوتِ اسلامی کے دارالافتاء اہلسنّت کا ایک معلوماتی فتویٰ پیشِ خدمت ہے پڑھئے اور فکرِ آخِرت میں کڑھئے: