Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
375 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
رِشوت کی ایک صورت
اپنا کام بنانے کیلئے جو حاکم کو دیا جائے صِرف وُہی رشوت نہیں بلکہ حاکم کے علاوہ کو بھی اگر اپنا کام بنانے کیلئے کچھ دیا جائے تو وہ رِشوت ہی ہے۔ جیسا کہ''جَوہَرہ نَیَّرہ ''میں ہے:اگر بیویوں میں سے کوئی اپنا حق اپنی سَوکن کیلئے چھوڑنے پر راضی ہوگئی تو جائز ہے اور اسے رُجوع کا حق بھی ہے اِس لئے کہ اس نے وہ حق ساقِط کیا ہے جو ابھی ثابت نہیں ہوا تھا تو گویا یہ تَبَرُّع (تَ۔بَر۔رُع )ہوا اور تَبَرُّع (یعنی احسان )کے مُعامَلے میں انسان پر جَبر نہیں ۔اور اگر کسی بیوی نے شوہر کو اسلئے مال دیا تاکہ وہ اس کا حصّہ دوسری بیویوں کی نسبت زیادہ کرے یا شوہر نے بیوی کو مال دیا تا کہ وہ اپنی باری کا دن اپنی سوکن کیلئے کردے تو یہ ناجائز ہے اور مال اُسی کو واپَس کیا جائے گا جس نے دیا ہے اس لئے کہ یہ رِشوت ہے اور رِشوت حرام ہے۔
                                 (جوہرہ ج۲ص۳۴)
رشوت لینے دینے والے پر لعنت
حضرتِ سیِّدُناثَوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے :رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رِشوت دینے والے ،رِشوت لینے والے اوران دونوں کے درمیان مُعامَلہ کروانے والے پرلعنت فرمائی ہے ۔
            (مُسندِ اِمام احمد ج۸ ص۳۲۷ حدیث۲۲۴۶۲)
اگر کمپنی والے ڈاکٹر کو تحفہ کہہ کر دیں تو؟
اگر کمپنی والے یہ کہیں کہ ہم بطورِ تحفہ ڈاکٹر کو یہ اشیاء دیتے ہیں لہٰذا اس میں کوئی حَرَج نہیں ہونا چاہے تو اسکا جواب یہ ہے کہ تحفہ اور رِشوت میں ایک بَہُت واضِح فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ رِشوت اِس شَرط کے ساتھ دی جاتی ہے کہ جس کو دی گئی ہے وہ دینے والے کا کوئی کام کریگا جبکہ تحفہ بغیر کسی شرط کے دیا جاتا ہے اور صورتِ مسؤلہ(یعنی پوچھی گئی صورت )میں اسی شرط پر دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر اسی کمپنی کی دوائیں لکھے ،جو ڈاکٹر اِس کمپنی کی دوائیں نہیں لکھتا انہیں''یہ خاص تحائف ''نہیں دیئے جاتے۔ ''فَتحُ القدیر''میں ہے:
اَلْفَرْقُ بَیْنَ الرِّشْوَۃِ وَالْھَدِیَّۃِ اَنَّ الرِّشْوَۃَ یُعْطِیْہِ بِشَرْطِ اَنْ یُّعِیْنَہُ
Flag Counter