Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
374 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
نام بھی موجود ہوتا ہے جیسا کہ بَہُت سے ادارے سالانہ اپنی ڈائری جاری کرتے ہیں آور مختلف لوگوں کومفت دیتے ہیں۔لہٰذا اس مُعامَلے پرعُرف جاری ہونے کی وجہ سے ان معمولی اشیاء کا لینا اور کمپنی کا انہیں دینا جائز ہے اور یہ رشوت کے زُمرے میں نہیں۔
دوا کی کمپنیوں کی طرف سے ڈاکٹروں کو رِشوت
اس کے علاوہ کار، A.C.اوردیگر مُمالِک کے سفر کیلئے ٹکٹ وغیرہ عُمُوماً کمپنی کی جانب سے تحفۃً نہیں دیا جاتاکیونکہ ڈاکٹر جو دوائی لکھ کر دے رہا ہے وہ تو اس کا کام ہے اور وہ علاج کی رقم بھی وُصول کرتا ہے ۔ کمپنی کیلئے اس نے جُداگانہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی اُجرت بنتی ہو لہٰذا شرعاً یہ کمیشن یا اُجرت نہیں۔ ہاں اگر رِشوت ہی کو کمیشن کہیں تو اور بات ہے جیسا کہ یہ بھی ہمارے عُرف ہی میں ہے کہ بعض اوقات جب پولیس کسی کا کام کروادیتی ہے تو اس پر رِشوت لیتی ہے مگر اسے رشوت کہنے کے بجائے اپنے حق یا اپنے کمیشن کا نام دیتی ہے تو ایسا کمیشن بھی رِشوت ہی ہے ۔ کمپنی کے مختلف چیزیں دینے کا مقصد صرف اپنی میڈیسن (دوائیں)زیادہ سے زیادہ بکوانا ہوتا ہے توکام نکلوانے کیلئے دینا رِشوت ہے لہٰذا ڈاکٹر کمیشن کامُطالَبہ کرے تو رِشوت کا مُطالَبہ ہے اوراگر مُطالَبہ نہ بھی کرے تب بھی صَراحَۃً یا دَلالَۃً طے ہونے کی(یعنی کھلے لفظوں میں یا جو علامت سے ظاہر ہو، UNDERSTOOD ہو اُس)صورت میں رِشوت ہی ہے اور رِشوت حرام ہے۔
رشوت کسے کہتے ہیں
سیِّدی اعلیٰ حضرت، مجدّدِدین وملّت ،شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں :رِشوت لینا مُطَلقاً حرام ہے کسی حالت میں جائزنہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیاجائے رِشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیاجائے رِشوت ہے لیکن اپنے اُوپر سے دَفعِ ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رِشوت نہیں، یہ دے سکتا ہے (البتّہ)لینے والے کے حق میں وہ بھی رِشوت ہے اور اسے لینا حرام۔
 (فتاوٰی رضویہ ج ۲۳ ص ۵۹۷)
Flag Counter