اس کے علاوہ کار، A.C.اوردیگر مُمالِک کے سفر کیلئے ٹکٹ وغیرہ عُمُوماً کمپنی کی جانب سے تحفۃً نہیں دیا جاتاکیونکہ ڈاکٹر جو دوائی لکھ کر دے رہا ہے وہ تو اس کا کام ہے اور وہ علاج کی رقم بھی وُصول کرتا ہے ۔ کمپنی کیلئے اس نے جُداگانہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی اُجرت بنتی ہو لہٰذا شرعاً یہ کمیشن یا اُجرت نہیں۔ ہاں اگر رِشوت ہی کو کمیشن کہیں تو اور بات ہے جیسا کہ یہ بھی ہمارے عُرف ہی میں ہے کہ بعض اوقات جب پولیس کسی کا کام کروادیتی ہے تو اس پر رِشوت لیتی ہے مگر اسے رشوت کہنے کے بجائے اپنے حق یا اپنے کمیشن کا نام دیتی ہے تو ایسا کمیشن بھی رِشوت ہی ہے ۔ کمپنی کے مختلف چیزیں دینے کا مقصد صرف اپنی میڈیسن (دوائیں)زیادہ سے زیادہ بکوانا ہوتا ہے توکام نکلوانے کیلئے دینا رِشوت ہے لہٰذا ڈاکٹر کمیشن کامُطالَبہ کرے تو رِشوت کا مُطالَبہ ہے اوراگر مُطالَبہ نہ بھی کرے تب بھی صَراحَۃً یا دَلالَۃً طے ہونے کی(یعنی کھلے لفظوں میں یا جو علامت سے ظاہر ہو، UNDERSTOOD ہو اُس)صورت میں رِشوت ہی ہے اور رِشوت حرام ہے۔