*غلط انجکشن لگا دیا ہے* انجکشن لگانے میں اس کا ہاتھ بھاری ہے* سیمپل کی دوائیں بیچ ڈالتا ہے*آپریشن غلط کر دیا ہے* بے رحم ہے*ایسی دوائیں دے دیں کہ میرا مِعدہ تباہ ہو گیا ہے* بہت مہنگی دوائیں لکھ دیتا ہے جس سے عارضی طورپر مریض کھڑا تو ہو جاتا ہے مگر بعد میں تکلیف مزید بڑھ جاتی ہے*بات بات پرTEST لکھ دیتا ہے* مرض کو خوامخواہ گمبھیر بتا کر آپریشن کر دیا* اُس سے آپریشن کروایا تھا، فیل ہو گیا* فُلاں نے غَلَط آپریشن کر دیا* جب دیکھو آپریشن ہی کی بات کرتا ہے مقصود صِرف پیسے کھینچنا ہے ا ور *ہم کو دولاکھ روپے کے خرچے میں اُتار دیا ہے!وغیرہ وغیرہ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بے شک بعض ڈاکٹربد عُنوان بھی ہوتے ہیں ،اگر ایسے ڈاکٹر سے کسی مریض کو بچانا مقصود ہو اور اِس کی وجہ سے کسی مخصوص ڈاکٹر کی کمزوری یا خامی صِرف اُس کے آگے بیان کی جس کو بتانا ضَروری تھاتو گنہگار نہیں مگر اکثر لوگ بِلا حاجت غیبت کرتے اور گنہگار ہوتے ہیں۔ یہ ذِہن میں رہے کہ کمپنی والے تشہیر کی غرض سے ڈاکٹروں کو جو دوائیں مریضوں کومفت دینے کیلئے دیتے ہیں ان پر NOT FOR SALEلکھا ہوتا ہے، ڈاکٹر ان دواؤں کا مالک نہیں صرف ''وکیل''(یعنی نائب)ہوتا ہے۔ لہٰذاایسی دوائیں بیچنا اور معلوم ہونے کے باوُجود خریدنا گناہ ہے۔نیز فَلاحی اِداروں یا مالداروں کی طرف سے بیماروں کیلئے عطیے(DONATION)میں ملی ہوئی دوائیں بیچ کر کھا جانے والے گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں۔