Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
365 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
زندگی میں رحمت دلاتی ہے۔ وہاں مَرنے کے بعد بھی راحت کا سامان فراہم کرتی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  مَدَنی قافلوں کے صدقے ہمیں مرنے کے بعد عاشِقانِ رسول کا پڑوس نصیب فرمائے۔ مرنے کے بعد ملنے والی اچھی صحبت کی بَرَکت کی جھلک مُلاحَظہ ہو چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 561 صَفحات پر مشتمل کتاب، ''ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت''(مکمَّل)صَفْحَہ270پر ہے:اپنے مُردوں کو بزرگو ں کے پاس دفن کرو کہ اِن کی برکت کے سبب اُن پر عذاب نہیں کیا جاتا ۔
ھُمُ الْقَوْمُ لاَیَشْقٰی بِھِمْ جَلِیْسُھُم.
یعنی یہ ایسی قوم ہے جس کا ہم نشین بھی محروم نہیں رہتا ۔ ولہٰذا حدیث میں فرمایا :
اَدْفِنُوْا مَوْتَاکُمْ وَسْطَ قَوْمٍ صَالِحِیْنَ.
اپنے مُردوں کو نیکوں کے درمیان دفن کرو۔
 (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخَطّاب ج۱ ص۱۰۲ حدیث۳۳۷)
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اِس ضمن میں ایک نہایت ایمان افروز حکایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
گُلاب کے پھول یااژدہوں کے منہ!
میں نے حضرت میاں صاحِب قبلہ قُدِّسَ سِرُّہ، کو فرماتے سنا :ایک جگہ کوئی قبرکُھل گئی اور مردہ نظر آنے لگا ۔ دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں اس کے بد ن سے لپٹی ہیں اور گلاب کے دو پھول اس کے نتھنو ں پر رکھے ہیں ۔ اس کے عزیزوں نے اِس خیال سے کہ یہاں قبر پانی کے صدمہ سے کھل گئی، دو سری جگہ قبر کھود کر اس میں رکھا، اب جو دیکھا تو دو اژدہے(یعنی دو بَہُت بڑے سانپ)اس کے بدن سے لپٹے اپنے پھَنوں سے اس کا منہ بھمبھوڑ(یعنی نوچ)رہے ہیں، حیران ہوئے ۔ کسی صاحِبِ دل سے یہ واقِعہ بیان کیا ، انہوں نے فرمایا : وہاں بھی یہ اَژدھے ہی تھے مگر ایک ولیُّ اللہ کے مزار کا قُرب تھا ،اُس کی برکت سے وہ عذاب رحمت ہوگیا تھا، وہ اَژدھے درختِ گُل کی شکل ہوگئے تھے اوران کے پھَن گلاب کے پھول۔ اِس کی(میِّت کی)خیریت چاہو تو وہیں لے جاکر دفن کرو ۔ وَہیں لے جاکر رکھا پھروہی درختِ گل تھے اور وُہی گلاب کے پھول ۔
Flag Counter