غیبتوں ، تہمتوں ، الزام تراشیوں ، عیب دریوں ،دل آزاریوں ، بد گمانیوں اوربدکلامیوں کا ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے ،ہر خوبی بھی''عیب''بن کر رہ جاتی ہے !ہر فریق اپنے آپ کو ''مظلوم''ثابت کرنے کیلئے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جھوٹ بولتا ہے حالانکہ برسوں سے گھر چل رہا ہوتا ہے مگر جب دو خاندانوں میں ''جنگ ''چھڑتی ہے، تو فریقِ مقابِل کو''بد عقیدہ ''تک کہہ دیا جاتا ہے!ایسے مواقِع پر کی جانے والی غیبتوں کی37 مثالیں ملاحَظہ ہوں:
لڑکی والوں کی طرف سے غیبتیں:
* شرابی تھا* جُواری * لُچّا *لفنگا *لوفر * آوارہ تھا* 420تھا *کماتا نہیں تھا*گھر کا خرچ نہیں دیتا تھا* سب پیسے ماں کے ہاتھ میں دیدیتا تھا*اس نے کبھی گھر کو گھر نہیں سمجھا * ساس روٹی نہیں دیتی تھی اِس لئے لڑکی پلّے سے کھاتی تھی* بَہُت ظالم لوگوں سے پالا پڑا تھا* پھنس گئے تھے* بڑی مشکل سے جان چھوٹی ہے* ہماری لڑکی کو بے قُصور مارتا تھا * ہمارے سامنے بَہُت اکڑتا تھا* اس کا سارا خاندان نِیچ ہے ہمارے مِعیار کے لوگ ہی نہیں تھے * ہماری لڑکی پر سوکن لانا چاہتا تھا * ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے لگا تھا* ہماری لڑکی کو بدنام کرنا شروع کردیا تھا*کمینے نے آخر اپنی ذات دکھائی ۔
لڑکے والوں کی طرف سے غیبتیں :
*لڑکی کا چال چلن صحیح نہیں تھا* بَہُت سارے آشنا بنا رکھے تھے*گھر میں زَبان