کیلئے گھڑی * باجی کیلئے سوٹ اور * امّی کیلئے چادر کی ترکیب تھی مگر ہر چیز گھٹیا پکڑائی وغیرہ وغیرہ ۔ ان میں بعض تو وہ غیبتیں ہیں جن کو شاید"چوری اور سینہ زوری''کہیں تب بھی غَلَط نہیں کیوں کہ اوّل تو جن چیزوں کے گِلے شکوے ہو رہے ہیں ان کے اندر اکثر رشوت کی بھیانک آفت بھی شامل ہے۔ مَثَلاً یہ مطالَبات کرنا کہ لڑکے کے بھائی اور والدین کو لڑکی والے یہ یہ چیزیں دیں گے تو ہی ہم رشتہ کریں گے تو یہ ''رشوت''ہوئی۔لڑکی والے اگر تحائف نہیں دیتے تو لڑکے والا فریق طعنے مِہنے دیتا ہے لہٰذا اپنی لڑکی کو سُسرال والوں کے شر سے بچانے کیلئے آم کی پیٹیاں اور کھانے کے پتیلے وغیرہ پیش کئے جاتے ہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:''رِشوت وہ ہے جوبعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رِشتہ کسی سے اُس وَقت تک نہیں کرتے جب تک خاطِب(یعنی نکاح کا پیغام دینے والے)سے اپنے لئے کوئی چیز حاصِل نہ کرلیں، نیز رِشوت وہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زَیر وِلایت(یعنی زیرِ سرپرستی)لڑکی کا رِشتہ تو کر دے مگر اپنے لئے کچھ لئے بِغیر وہ لڑکی شوہَر کے حوالے نہ کرے۔''