Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
360 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
کیلئے گھڑی * باجی کیلئے سوٹ اور * امّی کیلئے چادر کی ترکیب تھی مگر ہر چیز گھٹیا پکڑائی وغیرہ وغیرہ ۔ ان میں بعض تو وہ غیبتیں ہیں جن کو شاید"چوری اور سینہ زوری''کہیں تب بھی غَلَط نہیں کیوں کہ اوّل تو جن چیزوں کے گِلے شکوے ہو رہے ہیں ان کے اندر اکثر رشوت کی بھیانک آفت بھی شامل ہے۔ مَثَلاً یہ مطالَبات کرنا کہ لڑکے کے بھائی اور والدین کو لڑکی والے یہ یہ چیزیں دیں گے تو ہی ہم رشتہ کریں گے تو یہ ''رشوت''ہوئی۔لڑکی والے اگر تحائف نہیں دیتے تو لڑکے والا فریق طعنے مِہنے دیتا ہے لہٰذا اپنی لڑکی کو سُسرال والوں کے شر سے بچانے کیلئے آم کی پیٹیاں اور کھانے کے پتیلے وغیرہ پیش کئے جاتے ہیں۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:''رِشوت وہ ہے جوبعض قوموں میں رائج ہے کہ اپنی بیٹی یا بہن کا رِشتہ کسی سے اُس وَقت تک نہیں کرتے جب تک خاطِب(یعنی نکاح کا پیغام دینے والے)سے اپنے لئے کوئی چیز حاصِل نہ کرلیں، نیز رِشوت وہ ہے کہ کوئی شخص اپنے زَیر وِلایت(یعنی زیرِ سرپرستی)لڑکی کا رِشتہ تو کر دے مگر اپنے لئے کچھ لئے بِغیر وہ لڑکی شوہَر کے حوالے نہ کرے۔''
 (فتاوٰی رضویہ ج ۱۲ ص ۲۵۷)
یاد رکھئے !رشوت حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے چُنانچِہ حدیثِ پاک میں ہے:
اَلرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ فِی النَّارِ۔
یعنی رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنَّمی ہیں۔
                     (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۱ ص۵۵۰ حدیث۲۰۲۶)
رِشوت سے توبہ کا طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس نے رِشوتیں لی ہوں، اب نادِم ہے تو صِرف زَبانی توبہ کافی نہیں، توبہ کے ساتھ ساتھ ساری رِشوتیں اُن کو لوٹانا ہوں گی جن جن سے لی ہیں، وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارِثوں کو دے، ان کا بھی پتانہ لگے تو فقیر کو دیدے۔ رِشوت کی مزید معلومات کیلئے فیضانِ سنَّت جلد اوّل صَفْحَہ 540تا 554 کا مُطالَعہ فرما لیجئے۔
Flag Counter