Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
36 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
عورتیں زیادہ غیبتیں کرتی ہیں
مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں:ان پرخارِش کا عذاب مُسَلَّط کر دیا گیا تھا اور ناخن تانبے کے دھار دار اور نوکیلے تھے ان سے سینہ چہر ہ کُھجلاتے تھے اور زخمی ہوتے تھے۔ خدا (عَزَّوَجَلَّ ) کی پناہ یہ عذاب سخت عذاب ہے، یہ واقِعہ بعد قِیامت ہوگا جو حُضُور انور (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے آنکھوں سے دیکھامزید فرماتے ہیں :یعنی یہ لوگ مسلمانوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی آبروریزی(عزت خراب)کرتے تھے یہ کام عورَتیں زیادہ کرتی ہیں انھیں اس سے عبرت لینی چاہئے۔
                   (مراۃ ج۶ ص ۶۱۹)
پہلوؤں سے گوشت کاٹ کر کھلانے کا عذاب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کبھی تنہائی میں غور کیجئے کہ ہماری کمزوری کی حالت تو یہ ہے کہ معمولی خارِش بھی برداشت نہیں ہوتی ، ناخُن کا معمولی چَرکا(یعنی ہلکا سا چیرا)بھی سہا نہیں جاتا تو اگر غیبت کر کے بِغیر توبہ کئے مر گئے اور تانبے کے ناخُنوں سے چِہرہ اورسینہ چھیلنے اورنوچنے کی سزا دی گئی تو اِس سخت ترین اذیَّت کی سَہار کیوں کر ہوگی !غیبت کے ایک اوردل ہلا دینے والے عذاب کی روایت سنئے اورتھر تھر کانپئے۔حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خُدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرورِ کائنات،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس رات مجھے آسمانوں کی سَیر کرائی گئی تو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پہلوؤں سے گوشت کاٹ کر خُود ان ہی کو کھلایا جا رہا تھا ۔ ا نہیں کہا جاتا ،کھاؤ !تم اپنے بھائیوں کا گوشت کھایا کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا :اے جبرئیل یہ کون ہیں؟ عرض کی:آقا!یہ لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے۔
(دَلائِلُ النُّبُوَّۃ لِلْبَیْھَقی ج۲ص۳۹۳،تَنبِیہُ الغافِلین ص۸۶)
قِیامت میں مُردہ بھائی کا گوشت کِھلایا جائے گا
حضور نبیِّ کریم، رء ُوفٌ رَّحیم
علیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم
کا فرمانِ عظیم ہے:جو دنيا ميں اپنے(جس)بھائی کاگوشت کھائے گا (یعنی غیبت کریگا)وہ (یعنی جس کی غیبت
Flag Counter