Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
357 - 504
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
نَسَب(خاندان)کے حوالے سے غیبت یہ ہے کہ مثلاً وہ یوں کہے کہ اس کا باپ * موچی ہے یا *خاکروب (جھاڑو دینے والا)ہے ۔اَخلاق کے حوالے سے غیبت اس طرح ہے کہ *وہ بد اخلاق ہے* بخیل (کنجوس)* مُتَکبِّر (مغرور)* ریاکار*بَہُت غصّے والا * بزدل*عاجِز*کمزور دل اور* لاپرواہ ۔ افعال میں غیبت یہ ہے کہ ایسے کاموں کا ذکر کیاجائے جن کا دین سے تعلُّق ہے جیسے تم کہو کہ* وہ چور ہے* جھوٹا ہے*شراب خور ہے* خیانت کرنے والا یا* ظالم ہے*نَماز یا *زکوٰۃ میں سستی کرنے والا ہے یا یہ کہ* رکوع اور* سجدہ بھی اچھی طرح نہیں کرتا* نَجاستوں (یعنی ناپاکیوں )سے نہیں بچتا* ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سُلوک نہیں کرتا* زکوٰۃ صحیح مقام پر ادا نہیں کرتا یا *اس(یعنی زکوۃ)کی تقسیم صحیح طریقے پر نہیں کر تا یا کہ* اپنے روزے کوگناہوں* غیبتوں اور*لوگوں کی عزَّتوں میں دَخل اندازی سے نہیں بچاتا ۔ اور دُنیاسے مُتَعَلِّق افعال میں غیبت کی صورت یہ ہے کہ * وہ زیادہ با ادب نہیں ہے* لوگوں کے ساتھ تو ہین آمیز سُلوک کرتا ہے* اپنے آپ پر کسی دوسرے کا حق نہیں جانتا یا یہ کہ * وہ دوسروں پرصِرف اپنا حق سمجھتا ہے یا یہ کہ* وہ بَہُت زیادہ باتیں کرتا ہے* بَہُت کھاتا ہے*بَہُت سوتا ہے* بے وقت سوتا ہے *ہر جگہ بیٹھ جاتا ہے۔کپڑوں کے مُتَعَلِّق غیبت کی صورت یہ ہے کہ مَثَلاً * اس کی آستین بَہُت کھلی ہے*دامن لمبا ہے اور* کپڑے میلے ہیں۔
                 (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۱۷۷)
آہ!ہماری زَبان کی بے احتیاطیاں!!!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آہ !ہماری زَبان کی بے احتیاطیاں !!!آج کل اکثر لوگ مسلمانوں کے بارے میں نہ جانے کیا کیا بک کرروزانہ کتنی ہی بار غیبت یابہتان وغیرہ کا اِر تِکاب کرتے ہوئے
مَعَاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ
عذابِ نار کے حقدار ٹھہرتے ہوں گے!ہر قوم ،ہر شعبے ،ہر طبقے کی اپنی اپنی زَبان میں فی زمانہ بے شمارہزاروں ہزار ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں جو غیبت یا بہتان پر مشتمل ہوتے ہیں، اِسی طرح اکثر عورَتوں کی باتوں میں بھی گناہوں بھرے کلمات ومُحاوَرات کی کثرت
Flag Counter