(سُنَنِ تِرمِذی ج۴ص۲۰۷حدیث۲۴۶۵)
احیاء العلوم سے غیبت کی تعریف اور مثالیں
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی اِحیاء العلوم جلد 3صَفْحَہ 177پرفرماتے ہیں: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے (مسلمان )بھائی کا ذکر ان الفاظ کے ساتھ کرو کہ اگر اس تک یہ بات پہنچے تو وہ اسے ناپسند کرے۔ چاہے اس کے بدنی یا نَسبی (یعنی خاندانی )عیب کا تذکرہ کرو یااَخلاق اور عمل کے اعتِبار سے کوتاہی بیان کرو، اس کی دُنیوی خرابی کاذکر کرو یا اُخروی کا، حتّٰی کہ اُس کے کپڑے ، مکان اور جانور کے حوالے سے نَقص(خامی)بیان کرنا بھی غیبت ہے۔
بدن میں نَقص (خامی)کی صورت یہ ہے کہ مَثَلاً *چُندھا(یعنی کمزور نظر والا یا تیز روشنی برداشت نہ کرنے کے سبب آنکھیں جھپکانے والا)ہے* بھینگا (جس کو ایک کے دو نظر آئیں یا آنکھیں دبا کر دیکھنے والا)ہے *گنجا ہے *اس کا قد چھوٹا یا* لمبا ہے *اس کا رنگ سیا ہ(کالا)یا *زرد(پیلا)ہے وغیرہ وغیرہ یعنی ہر وہ بات جسے وہ ناپسند کرتا ہے وہ غیبت ہے، بات پھر جس طرح کی بھی ہو۔