| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس نے مجھ پر ایک بار دُرُودِ پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رَحمتیں بھیجتا ہے۔
عمارت کی لفٹ تو ائیر کنڈیشنڈ ہے، اِس پر ہمارا میزبان جو کہ اس عمارت کے ایک فلیٹ کا کرائے دار تھا وہ بول اٹھا:''یہ عمارت کافی پُرانی ہے۔''سگِ مدینہ عفی عنہ نے تیسرے سے عرض کی :یہ بتایئے کہ آپ کی بات کہ''یہ عمارت کافی پرانی ہے''سُن کر مکان مالِک خوشی سے جُھوم اٹھے گا یا دلبرا شتہ ہو گا ؟ اِس پر وہ پشیمان ہوئے کہ واقِعی پتا لگنے کی صورت میں اُسے اِیذا پہنچے گی ۔پھر میری بات کی توثیق کرتے ہوئے انہوں نے اپنا ایک واقِعہ سنایا کہ میرے پاس ایک پُرانی کار تھی ایک بار میرے بے تکلُّف دوست نے کہا:یار !اس کَھٹارے''کو چُھٹّی بھی کرواؤ! مجھے اِس جملے سے سخت صدمہ پہنچا اور میں نے وہ کاراستِعمال کرنا چھوڑ دی اور ایک دوست کے گیراج میں ڈلوادی۔ عرصہ ہوا یوں ہی پڑی ہے، بیچنے کو بھی دل نہیں کرتا کیوں کہ اُس کے ساتھ میری بعض مُتَبَرّک یادیں وابَستہ ہیں۔ جو جو اسلامی بھائی گفتگو میں شریک تھے
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
سب نے غیبتیں کرنے سننے سے توبہ کی۔
عیب بیان کرنا غیبت ہے بھی اور نہیں بھی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حکایت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فُضُو ل گفتگو کس قَدَر خطرناک ہوتی ہے کہ غیبت ہو جاتی ہے اور کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی ! اِس حکایت میں ایک نہیں کم ا ز کم دو غیبتیں ہیں ایک تو وُہی '' عمارت بَہُت پرانی ہے'' اور اس سے پہلے کی جانے والی بات کہ اِس کی لفٹ میں تو صرف پنکھا ہے جبکہ فُلاں کی لفٹ میں A.C.ہے ۔ اگر یہ بات بھی مکان مالِک سنے تو اُس کو ناگوار گزرے لہٰذا یہ بھی غیبت ہے ۔ یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ اگر بُرائی بیان کرنے کا کوئی صحیح مقصد ہو مَثَلاً عمارت میں فلیٹ کرائے پر لینا تھا اور اِس ضمن میں یہ گفتگو ہوئی کہ یہ عمارت بھی پُرانی ہے اور لفٹ میں بھی صرف پنکھا لگا ہوا ہے، فُلاں عمارت بہتر ہے کہ اُس کی لفٹ میں بھی A.C.ہے، چلو وَہیں فلیٹ بُک کرواتے ہیں۔ تو یہ گناہ بھری غیبت نہیں۔ اگر کسی صحیح مقصد کی نیّت نہیں بس یوں ہی کسی کاعیب یا اُس کی