کے ساتھ یا عورت کو دیکھا تو ان کی آنکھیں بہ کر رُخساروں (یعنی گالوں)پر آ گئیں!بعض نے جوں ہی اپنا ہاتھ کسی عورت کے ہاتھ پر رکھا تو دونوں کے ہاتھ آپس میں چمٹ گئے اور خوب رسوائی ہوئی، لوگ انہیں جدا کرنے میں ناکام ہو گئے، یہاں تک کہ بعض عُلَماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السّلام نے ان کی رہنمائی فرمائی کہ سچّے دل سے توبہ کریں اور عہد کریں کہ آئندہ ایسی گندی حرکت کبھی نہیں کریں گے ۔جب اُنہوں نے ایسا کیا، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں چھٹکارا عطا فرمایا۔ اس کتاب کے مصنِّف حضرتِ علامہ ابنِ حَجَرعلیہ رَحمَۃُ اللہِ الاکبرفرماتے ہیں:اسی طرح میرے ایک جاننے والے کے ساتھ ہوا جو کہ خوش شکل و خوش اَندام تھا، اس نے گناہ کیا بھی تو کیسی مقدّس جگہ پر !مسجِدالحرام کے اندراور وہ بھی حجرِ اسود کے پاس اُس پر شیطان سُوار ہوا اور اُس نے ایک عورت کو چوم لیا!قہرِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی بجلی گری اور اُس کا چہرہ پورے کا پورا مسخ ہو گیا،(یعنی بگڑ گیا)تن بدن بے ڈھب ہوا، عقل کُند ہوئی اور آواز بھی خراب ہو گئی اَلغَرَض سراپا عبرت کا نُمُونہ بن گیا۔ ہم بھٹکنے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں مرتے دم تک آزمائشوں سے بچائے، بے شک وہ سب سے زیادہ کریم و رحیم ہے۔