حضرتِ سیِّدُنا خالد رَبَعِی علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں کہ میں جامع مسجِد میں بیٹھا تھا کہ کچھ لوگ ایک شخص کی غیبت کرنے لگے، میں نے انہیں اس سے منع کیا توغیبت سے باز آ کر کسی اور موضوع پر آ گئے ، کچھ دیر بعد پھر اُسی شخص کے خلاف بولنے لگے ،اب کی بار میں بھی کچھ دیر کیلئے گفتگو میں شریک ہوگیا۔ رات کو خواب دیکھا کہ ایک لمبا سیاہ آدمی تھال میں خِنزیر کے گوشت کا لوتھڑا لئے آیا اور کہنے لگا:کھاؤ!میں نے کہا:میں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں کیوں''خِنزیر کا گوشت''کھاؤں؟ ش کی قسم !میں نہیں کھاؤں گا ۔ اُس نے مجھے سختی سے جھنجھوڑا اور کہا:تم نے تو اِس سے بھی گندی چیز کھائی(یعنی غیبت کی)ہے ۔ یہ کہہ کراس نے مجھے گدّی سے پکڑا اورخِنزیر کا گوشت جس سے خون بہ رہا تھا میرے منہ میں ٹُھونسنے لگا حتّٰی کہ میں نیند سے بیدار ہو گیا ۔خدا کی قسم !تیس دن تک مجھے اس کی بدبُو آتی رہی اور میں جب بھی کھانا کھاتا تو اُس سے خِنزیر کے گوشت کا ذایَقہ اپنے منہ میں محسوس کرتا۔