Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
351 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھے تو لوگوں میں وہ کنجوس ترین شخص ہے۔
رہی ، ایک رات وہ سو کر اٹھی تو تندُرُست تھی،اب وہ اٹھ کربیٹھ بھی سکتی تھی اور کھڑی بھی ہوسکتی تھی، اُس سے اِس سلسلے میں پوچھا گیا تو اُس نے کہا :ایک رات میں سخت دلبرداشتہ ہوئی، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ یا تو اِس مصیبت سے نَجات عطا فرماد ے یا پھر موت دے دے اور بَہُت روئی ۔ خواب میں دیکھا کہ ایک بُزُرگ میرے پاس تشریف لائے ہیں، میں کانپ گئی ، اور میں نے کہا: کیا آپ کا اس طرح میرے پاس آنا جائز ہے؟انہوں نے فرمایا:میں تمہار ا والِد ہوں، میں نے گمان کیا کہ شاید میرے جدِّ اعلیٰ حضرتِامیرُالْمُؤمِنِین علیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا كَرَّمَ اللہُ تعالٰی وَجْھَہُ  الْکَرِیْم ہیں، میں نے عرض کی:یاامیرَالْمُؤمِنِین !آپ میری حالت نہیں دیکھتے؟ انہوں نے فرمایا:میں تیراوالِد محمد رَسول اللہ (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )ہوں۔ میں نے روتے ہوئے عرض کی:یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم !اللہ تعالیٰ سے میرے لئے صحّت کی دعا فرمادیجئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے دونوں ہونٹوں کو حَرَکت دی ۔ پھر فرمایا:اپنا ہاتھ لاؤ، میں نے اپناہاتھ پیش کر دیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے پکڑ کر کھینچا اور مجھے بٹھا دیا،۔ پھر فرمایا:اللہ کا نام لے کر کھڑی ہو جاؤ۔ میں نے عرض کی: میں کیسے کھڑی ہو جاؤں میں تو معذور ہوں!فرمایا:اپنے دونوں ہاتھ لاؤ، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں پکڑ کر کھینچا تو میں کھڑی ہو گئی، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تین دفعہ اسی طرح کیا،پھر فرمایا:کھڑی ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں صحّت و عافیّت عطا فرما دی ہے، تم اس کی حمد کرو اوراس سے ڈرو، پھر مجھے چھوڑا اور تشریف لے گئے۔ جب میں بیدار ہوئی تو تندُرُست تھی، ان کاواقِعہ بغداد شریف میں خوب مشہور ہوا۔
                     (مِصباحُ الظَّلام فِی الْمُستغیثین بخیر الا نام ص۱۵۳ )
سرِ بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے

حال بگڑا ہے  تو بیمار  کی بن آ ئی ہے
Flag Counter