| غیبت کی تباہ کاریاں |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
غیبت کرنے والے کو دعائے خیر سے نواز یئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیودیکھا آپ نے!اولیاء ُاللہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا نیکی کی دعوت کااندازبھی کتنا انوکھا ہوا کرتا تھا، جب زمانے کے ولی کی طرف سے غیبت کرنے والے کو بدلے میں کھجوروں کا تھال پہنچا ہو گا وہ کس قَدَر مُتَأَثِّرہوا ہو گا ! اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جس کی غیبت کی جائے وہ فائدے میں رہتا ہے کیوں کہ جس نے غیبت کی اُس کی نیکیاں اِس (یعنی جس کی غیبت کی گئی اُس )کے اعمالنامے میں مُنتِقل کی جاتی ہیں اور جو نیکیاں گویا تحفے میں دے وہ ایک طرح سے ہمارا خیر خواہ یعنی بھلائی چاہنے والاہی ہوا ۔ لہٰذا اُس سے اُلجھنے کے بجائے اُس کے حق میں دعائے خیر کرنی چاہے ۔
جو غیبت سے چغلی سے رہتا ہے بچ کر میں دیتا ہوں اُس کو دعائے مدینہ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(35)عطر کی شیشی کاتحفہ
ایک مبلِّغ دعوتِ اسلامی کاکچھ اس طرح بیان ہے:مجھے پتا چلا کہ فُلاں صاحِب نے میرے خلاف لوگوں میں غیبت کی ہے، مجھے حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی کی حکایت معلوم تھی(جو ابھی گزری)لہٰذا ان کی پیروی کی نیّت سے اُن صاحِب کو تحفۃً ''عِطر کی شیشی''بھجوائی اور جن کے ذَرِیعے بھجوائی اُن کو درخواست کر دی کہ سوغات بھجوانے کا سبب بیان کر کے آپ ان کی تفہیم کیجئے یعنی سمجھانے کی ترکیب بنایئے ، بات آئی گئی ہوگئی۔ ایک بار ہم چند اسلامی بھا ئی اِتِّفاق سے ان غیبت ومخالَفَت کرنے والے صاحِب کی دُکان کے قریب سے گزرے ، دیکھتے ہی وہ اپنی دکان سے باہَر آ گئے ،پُر تپاک طریقے پر ملاقات کی، پھل کے رس یا کسی مشروب سے ہماری خاطِر تواضُع کی اور اپنی دکان کے اندر مجھ