اچّھی نیّت اور وہ بھی مَدَنی قافِلے میں سنّتوں بھرا سفر کرنے کی
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ!
اس کی بھی کیا خوب بَرَکت ہے کہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
اولادِ نرینہ سے گودہری ہو گئی !یہ ذہن میں رہے کہ جتنی اچّھی نیتیں زیادہ ہو گی اُتنا ہی ثواب میں اضافہ ہو گا لہٰذا کسی جائز مقصد پانے کی نیّت کے ساتھ ثوابِ آخِرت کی نیت کونہیں بھولنا چاہے ۔ مَثَلاً اگر صِرف اولاد کی نیّت سے مَدَنی قافلے میں سفر کیا تو مَدَنی قافلے میں سفر کا ثواب نہیں ملے گا ۔ اگر ثواب کی نیّت بھی کی ہو گی تو اولاد نہ بھی ملے
اِنْ شَاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
ثواب ضرور مل جائے گا۔ جیسا کہ پارہ 13سورہ یوسف آیت 56میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ گرامی ہے:
وَلَانُضِیۡعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾
ترجَمہ کنزالایمان:اور ہم نیکوں کا نیگ ضائع نہیں کرتے۔
(34)غیبت کرنے والے کو تحفہ
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رَحمَۃُ اللہِ القوی کو کسی نے کہا کہ فُلاں نے آپ کی غیبت کی ہے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے غیبت کرنے والے آدمی کو کھجوروں کا ایک تھال بھر کر روانہ کیا اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ سُنا ہے آپ نے مجھے اپنی نیکیاں ہدِیّہ کی ہیں تو میں نے ان کابدلہ دینا بہتر جانا اس لئے کھجوریں حاضِر کی ہیں۔
اللہ عَزَّوَجلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم