Brailvi Books

غیبت کی تباہ کاریاں
345 - 504
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
ہو۔
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ کسی مسلمان کیمتَعَلَّق  جھٹ پٹ غَلَط رائے نہیں قائم کرلینی چاہے ہمیں کیا معلوم کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں کس کا کیا مقام ہے!
نظرِ کرم  خدارا  میرے سیاہ  دل پر

بن جائے گا یہ دم بھر میں بے بہا نگینہ
 (32)حبشی نے جوں ہی دعا مانگی۔۔۔۔
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواوہ حبشی کوئی پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ لہٰذا کسی کی ظاہری شکل و صورت اور لباس وغیرہ کو دیکھ کر اُس کی ہرگز تحقیر نہیں کرنی چاہے۔حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں:ایک سال مدینہ منوَّرہ
زادَھَااللہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْما
میں قحط ہوا لوگوں کو از حد غم ہوا ،ایک روز اہلِ مدینہ نَمازِ اِستِسقاء(یعنی بارش مانگنے کی نَماز)کے واسطے نکلے اور حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی ساتھ تھے، سب لوگ رو رو کردُعا مانگنے لگے کسی کی دعا قبول نہیں ہوتی تھی،اتنے میں دو چادروں میں ملبوس ایک حبشی آیا اور بارگاہ ِ خداوندی میں یوں عرض گزار ہوا :''الہٰی !ہم گنہگار ہیں تُو نے ہم لوگوں کوادب سکھانے کیلئے پانی روک لیاہے،یااللہ!اپنی رحمت سے اِسی وقت پانی برسا ،اِسی وقت پانی برسا، اِسی وقت پانی برسا۔''فی الفور گھنگھور گھٹا اُمنڈ آئی، اور موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارَک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس آئے،انہوں نے فرمایا:کیا بات ہے کہ آپ اداس نظر آ رہے ہیں؟انہوں نے حبشی کی دعا اور بارش والا واقِعہ سنایا، یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنافُضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے۔
 (ماخوذاز: اِحیاءُ الْعُلوم ج۱ ص ۴۰۸)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری
Flag Counter