مذکورہ حکایت سے مِلتی جُلتی ایک اور ایمان افروز حِکایت مُلاحَظہ فرمایئے چُنانچِہ منقول ہے:حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی بے انتہا مُنکَسِرُ المزاج تھے۔ہر شخص کو اپنے سے بہتر تصوُّر کیاکرتے ۔ایک دن دریائے دِجلہ کے کَنارے کسی حبشی کوشراب کی بوتل کے ساتھ ایک عورت کے ہمراہ دیکھا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دل میں کہا :کیا یہ شرابی حبشی بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے!اِسی دوران ایک کِشتی گزری جس پر سات افراد سُوار تھے ، یکایک وہ غَرَق آب ہو گئی اور ساتوں آدمی ڈوب گئے۔ یہ دیکھ کر حبشی دریا میں کود گیا اور اس نے ایک ایک کر کے چھ افراد کو باہَر نکالا، پھر مجھ سے بولا:ساتواں آپ نکالئے، میں تو آپ کا امتحان لے رہا تھا کہ آپ صاحِبِ باطن بھی ہیں یا نہیں!یہ بھی سن لیجئے!یہ عورت اور کوئی نہیں بلکہ میری امّی جان ہیں اور بوتل میں شراب نہیں سادہ پانی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سمجھ گئے کہ یہ حبشی کوئی عام آدمی نہیں بلکہ میری اصلاح کیلئے آئی ہوئی غیبی ہستی ہے۔ لہٰذا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اُس کا احترام کیا اور دُعا کی درخواست کی، اُس نے دعا کی:اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو نورِ بصیرت(یعنی دل کی نظرکے نور)سے نوازے ۔اس کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی بھی خود کو کسی سے بہترنہیں سمجھا یہاں تک کہ ایک بار کسی نے اِستِفسار کیا کہ کتّا بہتر ہے یا آپ ؟ فرمایا:اگر عذاب سے نجات پا گیا تو میں بہتر ورنہ کتّا مجھ جیسے سینکڑوں گنہگاروں سے بہتر ہے۔
(ماخوذ از:تذکرۃُ الاولیاء حصّہ۱ ص ۴۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت