مجھے بازو سے پکڑا اور اُسی مسجد میں لے گئے ۔ وہاں ایک شخص دوگدڑیاں اَوڑھے سورہاہے جب اس کے چہرے سے گُدڑی ہٹائی گئی تو یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ یہ تو وُہی شخص ہے جو میرے قریب سے گزراتھا!فرشتو ں نے مجھ سے کہا :''اِس کا گو شت کھاؤ۔ ''میں نے کہا :میں نے اس کی کوئی غیبت تو نہیں کی۔ کہا :''کیوں نہیں !تو نے دل میں اس کی غیبت کی، اس کو حقیر جانا اور اس سے ناخوش ہوا۔''حضرت سیِّدُنا ابراہیم آجُرِی کبیر علیہ رحمۃ اللہ القدیر فرماتے ہیں:پھر میری آنکھ کھل گئی، خوف کی وجہ سے مجھ پر لرزہ طاری تھا ، میں مسلسل تیس (30)دن اُسی مسجد کے دروازے پربیٹھا رہا،صرف فرض نماز کے لئے وہاں سے اٹھتا۔ میں دعا کرتا رہاکہ دوبارہ وہ شخص مجھے نظر آجائے تاکہ اس سے مُعافی مانگو ں۔ ایک ماہ بعد وہ پُراَسرار شخص مجھے نظر آ گیا، پہلے کی طرح اُس کے جسم پر دو گدڑیاں تھیں۔ میں فوراً اس کی طر ف لپکا، مجھے دیکھ کر وہ تیز تیز چلنے لگا ، میں بھی پیچھے ہولیا۔آخِر کار میں نے اُس کو پکار کر کہا :''اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے !میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ ''اُس نے کہا :اے ابراہیم !کیا تم بھی ان لوگوں میں سے ہو جو دل کے اندر مومنین کی غیبت کرتے ہیں ؟اس کے منہ سے اپنے بارے میں غیب کی خبر سن کر میں بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ جب ہوش آیاتو وہ شخص میرے سِرہانے کھڑا تھا ۔ اُس نے کہا :کیا دوبارہ ایسا کروگے ؟ میں نے کہا :''نہیں ، اب کبھی بھی ایسا نہیں کروں گا۔ '' پھر وہ پُراَسرار شخص میری نظروں سے اوجھل ہوگیا اور دوبارہ کبھی نظر نہ آیا ۔